خیبرپختونخوا اسمبلی نے تین محکموں کیلئے 30 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور کر لیے
خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس،تین محکموں کیلئے 30 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور

مزید خبریں
پشاور۔ 23 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے دوران تین اہم محکموں کے اخراجات کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور کر لیے۔ منظوری منگل کے روز سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے صوبائی اسمبلی کے اخراجات کے لیے 62 کروڑ روپے سے زائد، محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے 14 ارب 78 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد جبکہ محکمہ خزانہ، خزانہ جات اور لوکل فنڈ آڈٹ کے لیے 14 ارب 73 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے۔مطالباتِ زر پیش ہونے کے بعد اپوزیشن اراکین نے مختلف کٹوتی کی تحاریک پیش کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کی کارکردگی، اخراجات اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے۔ بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان متعدد نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی ہوا۔بعد ازاں حکومت کی جانب سے بعض کٹوتی کی تحاریک واپس لینے کی استدعا کی گئی، جس پر کچھ تحاریک واپس لے لی گئیں جبکہ باقی تحاریک کو رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا۔ حکومتی اکثریت کے باعث تمام زیر التوا کٹوتی کی تحاریک مسترد ہو گئیں۔رائے شماری مکمل ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی نے صوبائی اسمبلی، محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن اور محکمہ خزانہ، خزانہ جات و لوکل فنڈ آڈٹ کے لیے مجموعی طور پر 30 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور کر لیے۔ اس منظوری کے ساتھ متعلقہ محکموں کو آئندہ مالی سال کے دوران اپنے انتظامی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے مطلوبہ مالی وسائل دستیاب ہو جائیں گے۔








