خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس، محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کیلئے 14 ارب 78 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور

خیبرپختونخوا اسمبلی نے جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ کیلئے 14.78 ارب روپے کے مطالباتِ زر منظور کر لیے

پشاور۔ 23 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر بحث کے دوران محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کیلئے 14 ارب 78 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور کر لیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن نے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔ اپوزیشن اراکین نے محکمہ کو عوامی مسائل کے حل، انتظامی استعداد اور عوامی رسائی کے حوالے سے ناکام قرار دیتے ہوئے مطالباتِ زر میں کٹوتی کی تحاریک پیش کر دیں تاہم حکومت نے ان تحاریک کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں رائے شماری کے ذریعے مسترد کروا دیا۔صوبائی اسمبلی میں وزیر قانون آفتاب عالم نے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے 14 ارب 78 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر پیش کئے تو اپوزیشن اراکین نے محکمہ کی کارکردگی پر تنقید کی ،مسلم لیگ (ن) کی رکن ثوبیہ شاہد نے کہا کہ ہر سال سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کے پاس نہ کوئی مؤثر حکمت عملی ہوتی ہے اور نہ ہی پیشگی انتظامات۔ انہوں نے سوات سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی خاندان کے سات افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے لیکن انتظامیہ بروقت کارروائی نہ کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی افسران عوام سے رابطے میں نہیں اور ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔رکن اسمبلی فرح خان نے بیوروکریسی کے رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو بھی سرکاری دفاتر میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران مسائل حل کرنے کے بجائے رسمی ملاقاتوں اور پروٹوکول تک محدود ہو چکے ہیں جبکہ دوسری جانب ریڑھی بانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری افسران خود کو عوام کا خادم سمجھیں اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ایمل جلیل نے کہا کہ جنرل ایڈمنسٹریشن حکومت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اگر یہی محکمہ کمزور ہو تو پورا انتظامی نظام متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فنڈز کی فراہمی کے باوجود شفافیت، احتساب اور انتظامی کارکردگی میں بہتری کیوں نظر نہیں آ رہی۔مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سردار شاہجہان یوسف نے کہا کہ سرکاری دفاتر عوام سے دور اور محلات نما عمارتوں میں قائم ہیں جہاں عام آدمی کی رسائی مشکل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی انتظامی افسران خود کو عوامی خادم کے بجائے حکمران سمجھتے ہیں، جبکہ یونین کونسل سیکرٹریوں کے دفاتر کے باہر بھی لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں، جو انتظامی کمزوریوں کا واضح ثبوت ہے۔پیپلز پارٹی کی رکن فائزہ ملک نے کہا کہ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کی مایوس کن کارکردگی کی بنیادی وجوہات کمزور فیصلہ سازی، عوامی رسائی کا فقدان اور سیاستدانوں و بیوروکریسی کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ ان کے مطابق جب تک عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ بحال نہیں ہوگا، نظام میں بہتری ممکن نہیں۔ رکن اسمبلی سونیا حسین نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے دعوئوں کے باوجود عوام کو عزت اور احترام نہیں مل رہا، جبکہ عام شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات سننے اور ان کا فوری ازالہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ریحانہ اسماعیل نے محکمہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پشاور میں روزمرہ اشیائے ضروریہ خصوصاً سبزیوں اور گوشت کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا، اس کے باوجود محکمہ کے لیے 14 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ محکمہ میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر توجہ نہیں دی جا رہی۔بحث کے دوران مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر قانون آفتاب عالم نے اپوزیشن اراکین سے کٹوتی کی تحاریک واپس لینے کی درخواست کی اور مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ انتظامی امور کی انجام دہی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے تاہم اپوزیشن اپنے مؤقف پر قائم رہی اور مطالباتِ زر کی مخالفت جاری رکھی۔بعد ازاں کٹوتی کی تحاریک کو رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا جہاں حکومتی اکثریت کے باعث تمام تحاریک مسترد کر دی گئیں اور محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے 14 ارب 78 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور کر لئے گئے۔

مزید خبریں