خیبرپختونخوا اسمبلی میں بجٹ پیش کئے جانے کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ،اپوزیشن رہنماؤں کی صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید

خیبرپختونخوا اسمبلی میں بجٹ پیش کئے جانے کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ،اپوزیشن رہنماؤں کی صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید

پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق صوبائی بجٹ پر اتوار سے باقاعدہ بحث کا آغاز ہوگا تاہم ابتدائی ردعمل میں ہی حکومت کی مالی حکمت عملی اور وفاق سے تعلقات پر سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہی ہے، توقع تھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے کے حقوق کا مؤثر مقدمہ لڑیں گے، تاہم صوبائی حکومت نے 109 ارب روپے کے معاملے پر سرنڈر کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ کو وزیراعظم کے سامنے این ایف سی ایوارڈ اور صوبے کے مالی حقوق پر مضبوط موقف اپنانا چاہیے تھا، لیکن قبائلی اضلاع کے لیے فنڈز کے معاملات میں صوبائی حکومت ناکام نظر آتی ہے۔نثار باز کے مطابق 27 ارب روپے اے ڈی پی میں رکھے گئے جبکہ سابقہ فاٹا پر اب تک 157 ارب روپے خرچ ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان فنڈز کے استعمال کی تفصیلات اور نتائج کیا ہیں۔اپوزیشن رکن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے لیے 55 ارب روپے خرچ کرنے کے دعووں کی تفصیلات اور گزشتہ بجٹ کے فنڈز کے استعمال کا مکمل حساب پیش کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق گزشتہ سال کا بجٹ بڑی حد تک لیپس ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے بجٹ تقریر میں آپریشن متاثرین پر 18 ارب روپے خرچ کرنے کا ذکر کیا ہے تاہم سیلاب اور دیگر قدرتی آفات پر خرچ ہونے والے فنڈز کی شفاف تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئیں۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے کہا کہ اپوزیشن نے صوبائی حکومت کو اپنا حصہ مانگنے کا پورا اختیار دیا تھا لیکن وہ ناکام رہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 18ویں آئینی ترمیم میں خیبرپختونخوا کا ایک فیصد حصہ پیپلز پارٹی کی کوششوں سے حاصل ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نہ تو ٹیکس اہداف پورے کر سکی اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کو مطلوبہ فنڈز فراہم کئے گئے۔ ان کے مطابق سیلز ٹیکس کے اہداف بھی پورے نہیں ہوئے اور مالی نظم و نسق میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔

پیپلز پارٹی رہنما نے مزید کہا کہ گزشتہ بجٹ میں غیر ضروری اخراجات کیے گئے اور سوال اٹھایا کہ کیا صوبائی حکومت اپنے محصولات کے اہداف حاصل کر سکی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تنخواہوں میں ایڈہاک ریلیف کو شامل کر کے عوام کو ریلیف دیا گیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ اپوزیشن اسمبلی میں بجٹ اور مالی معاملات کا بھرپور احتساب کرے گی اور حکومت کو جواب دہ بنایا جائے گا۔

مزید خبریں