خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کے لئے12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امدادی پیکیچ کی منظوری دے دی
خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کے لئے12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امدادی پیکیچ کی منظوری دے دی

مزید خبریں
پشاور۔ 07 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کے لئے12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امدادی پیکیچ کی منظوری دے دی ۔ وزیر اوقاف و مذہبی امور خیبر پختونخواکےترجمان کے مطابق اس سلسلے میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری کی زیر صدارت اسسمنٹ کمیٹی کا اجلاس پشاورمیں منعقدہوا،جس میں 173 درخواستوں کا جائزہ لیاگیا اور167 مستحق افراد اور خاندانوں کےلئے امداد کی منظوری دی گئی ۔زخمی افراد، بیوائوں ، یتیم بچوں، غیر شادی شدہ بیٹیوں اور معذور افراد مالی امداد کے اہل قراردےگئے۔مالی امداد کے تمام کیسز ضلعی اور محکمانہ سطح پر جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے۔شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے لئے ہر کیس کی ازسرنو تصدیق کی گئی ۔دو مختلف زمروں میں شامل خاتون کو صرف ایک زمرے کے تحت امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا۔مستقل معذوری کے 7 کیسز زیر غور، 6 کیسز دستاویزات کی فراہمی سے مشروط منظور کر لیے گئے۔مردان گوردوارہ سنگھ سبھا حملے کے متاثرہ خاندان کےلئے 40 لاکھ روپے امداد منظور کیا گیا۔ شہید جگن ناتھ اور ان کی اہلیہ کے قانونی ورثا کو مالی امداد فراہم کی جائے گی ۔ اجلاس میں ضلعی جانچ پڑتال کمیٹی کو ایک ہفتے میں رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ۔اس موقع پرصوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی مدد ریاستی، قومی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور فلاح کےلئے اقدامات جاری رہیں گے۔ حکومت ہر مستحق متاثرہ خاندان کو قانون کے مطابق امداد فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہے۔







