اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کو آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق چلایا جانا چاہئے، کسی سزا یافتہ شخص کی مشاورت پر حکومتی فیصلے کرنا آئینی طور پر درست نہیں ،اس طرزِ عمل سے نہ صرف آئینی بحران جنم لے سکتا ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کی توہین بھی ہوگی۔منگل کو اپنے ایک بیان میں طلال چوہدری نے …
خیبرپختونخوا میں حکومت کو آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق چلایا جانا چاہئے، کسی سزا یافتہ شخص کی مشاورت پر حکومتی فیصلے کرنا آئینی طور پر درست نہیں ، طلال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کو آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق چلایا جانا چاہئے، کسی سزا یافتہ شخص کی مشاورت پر حکومتی فیصلے کرنا آئینی طور پر درست نہیں ،اس طرزِ عمل سے نہ صرف آئینی بحران جنم لے سکتا ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کی توہین بھی ہوگی۔منگل کو اپنے ایک بیان میں طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت یا مشاورت سے کابینہ کی تشکیل کے اعلانات آئین اور عدالتی فیصلوں کے منافی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کسی ایسے شخص کو جو عدالت سے سزا یافتہ ہو یا جیل میں قید ہو، حکومتی یا انتظامی فیصلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ وزیرِ مملکت نے کہا کہ ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں بھی عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا تھا کہ جیل میں موجود شخص کے کسی فیصلے کی آئینی حیثیت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ’’بانی‘‘ کے فیصلوں کو پارٹی پالیسی قرار دینا خود اس جماعت کے اپنے آئین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ پارٹی کا آئینی ڈھانچہ صرف چیئرمین کے عہدے کو تسلیم کرتا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر کسی صوبے کی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر کسی سزا یافتہ شخص کی مشاورت سے فیصلے کرے گی تو یہ طرزِ عمل آئین کی روح کے منافی اور جمہوری اصولوں کے برخلاف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور کسی ’’نیازی لاء‘‘ یا ذاتی قانون کے تصور کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، ملک میں قانون سب کے لئے برابر ہے اور کسی فردِ واحد کو آئین سے بالاتر حیثیت نہیں دی جا سکتی۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اپنی صوابدید کے مطابق آزادانہ فیصلے کرے اور کسی غیر متعلقہ فرد کے دباؤ میں آ کر حکومتی ڈھانچہ تشکیل نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ صوبے میں حکمرانی آئین کے تابع ہوگی یا کسی سزا یافتہ شخص کے اشاروں پر۔طلال چوہدری نے کہا کہ وزارتِ داخلہ اور وفاقی حکومت ملک میں آئینی نظم و ضبط، جمہوری استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔








