"خیبر پختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، لوکل گورنمنٹ، صحت اور سماجی بہبود کے محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کیا جائے گا۔”
خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کےلیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
پشاور۔ 15 اگست (اے پی پی):خیبر پختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کےلیے وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی موجودگی میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے جس کے نتیجے میں صوبے میں سکول سے باہر بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کیا جائے گا تاکہ ہر بچے کا درست ڈیٹا، مقام اور تعلیمی ضرورت معلوم کی جا سکے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں وزیراعلی کو اعلی حکام نے بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ون میپ نظام کے ذریعے سکول سے باہر بچوں کا درست ڈیٹا مرتب کیا جائے گا، 2023 کی مردم شماری کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ بچے ہیں جبکہ محکمہ تعلیم کے مطابق 26 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ پہلے مرحلے میں 60 فیصد بچوں کو فوری طور پر سکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا جائے گا۔ 5 سال سے کم عمر کے بچوں کا ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا تاکہ مستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی بہتر بنائی جا سکے۔ سرکاری سکولوں، ڈبل شفٹ، کمیونٹی سکولز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی شراکت داری سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔ غربت کے باعث تعلیم چھوڑنے والے بچوں کے لیے وظائف، زکوٰۃ اور سماجی معاونت فراہم کی جائیگی۔ 14 سے 16 سال کے نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔صوبائی و ضلعی سطح پر سٹیئرنگ کمیٹیوں کے ذریعے منصوبے کی نگرانی کی جائے گی۔ شفافیت کے لیے آزاد ادارہ سروے شدہ ڈیٹا کے 5 فیصد حصے کی تصدیق کرے گا۔وظائف کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی۔








