وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت بننے کے بعد ترقیاتی کام نظر نہیں آئے، جبکہ وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ پر صوبے کے وسائل کے مؤثر استعمال میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
خیبرپختونخوا میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ نے اب تک صرف اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھنے اور صوبے کے وسائل ضائع کرنے پر زور دیا ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت بننے کے بعد صوبے میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ ارکان نے اب تک صرف اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھنے اور صوبے کے وسائل کو ضائع کرنے پر زور دیا ہے۔
منگل کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں عوامی ریلیف کے بجائے اراکین کے ذاتی مفادات کا بل پیش کیا گیا، اراکین کے پی اسمبلی کو ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ کرنا کونسا فلاحی منصوبہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے پی اراکین اسمبلی اب 8 ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس حاصل کر سکیں گے، اراکین اسمبلی اور ان کی بیگمات کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے، کے پی اراکین اسمبلی سرکاری گیسٹ ہائوس میں 3 دن مفت قیام کر سکیں گے، کیا یہ سب کے پی کے عوام سے جڑے اہم مسائل تھے جنہیں بروقت حل کر کے ریلیف دیا گیا؟







