خیبرپختونخوا کے وزیر صحت کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کا جائزہ اجلاس، صحت کی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا فیاض علی شاہ بھی موجود تھے

پشاور۔ 15 ستمبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا فیاض علی شاہ بھی موجود تھے۔اجلاس میں صوبہ بھر میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کی مجموعی کارکردگی، گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد اور ضلعی سطح پر صحت کی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری صحت کی سرگرمیوں، کارکردگی، درپیش مسائل اور بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد، انسانی وسائل اور میڈیکل افسران کی دستیابی، عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور بروقت فراہمی، طبی آلات اور صحت مراکز کے انفراسٹرکچر کی فعالیت، صفائی و ستھرائی، DHIS ڈیٹا، BEmONC سروسز، حفاظتی ٹیکہ جات اور ملیریا کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر صحت نے ضلعی سطح پر صحت کی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام مراکز صحت کو فعال رکھا جائے اور ان میں ڈاکٹرز، طبی عملہ، ضروری ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مراکز کی کارکردگی کا بنیادی معیار عوام کو فراہم کی جانے والی عملی اور معیاری طبی سہولیات ہونی چاہئیں۔انسانی وسائل اور عملے کی حاضری کے حوالے سے صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ اپنی مقررہ ڈیوٹی پر موجود رہے۔ حاضری کی مؤثر نگرانی اور جوابدہی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ دستیاب افرادی قوت سے مریضوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جاسکے۔اجلاس میں ادویات کی دستیابی اور بروقت فراہمی بھی زیر بحث آئی۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ضروری ادویات کی طلب، ترسیل اور سٹاک کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور کسی بھی مرکز صحت پر ادویات کی کمی کی صورت میں فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔طبی آلات اور صحت مراکز کے انفراسٹرکچر کی فعالیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب طبی آلات کو قابل استعمال حالت میں رکھا جائے، خراب آلات کی بروقت نشاندہی کی جائے اور ضروری مرمت یا دیگر اقدامات کے لیے فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے۔صحت مراکز میں صفائی اور ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں، بی ایچ یوز، آر ایچ سیز اور دیگر مراکز صحت میں صفائی کے مناسب انتظامات یقینی بنائے جائیں، کیونکہ صاف ستھرا ماحول معیاری صحت کی سہولیات کا بنیادی حصہ ہے۔اجلاس میں DHIS ڈیٹا اور رپورٹنگ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے درست، بروقت اور قابل اعتماد ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر صحت سے متعلق اعداد و شمار کی بروقت رپورٹنگ اور تصدیق یقینی بنائی جائے تاکہ صحت کے شعبے میں مؤثر منصوبہ بندی اور فیصلوں میں مدد مل سکے۔بیسک ایمرجنسی اوبسٹیٹرک اینڈ نیوبورن کیئر (BEmONC) سروسز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ زچہ و بچہ کی ہنگامی طبی سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور جہاں کہیں سہولیات، عملے یا دیگر ضروریات میں کمی ہے، وہاں فوری طور پر بہتری کے اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں حفاظتی ٹیکہ جات اور ملیریا کنٹرول سروسز کی کارکردگی بھی زیر غور آئی۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرامز کی مؤثر عملدرآمد اور کوریج کو یقینی بنایا جائے جبکہ ملیریا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے ضلعی سطح پر نگرانی اور اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔صوبائی وزیر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بعض شعبوں میں بہتری کے باوجود مسلسل نگرانی، مؤثر انتظام، جوابدہی اور سروس ڈلیوری میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔انہوں نے خاص طور پر بنیادی مراکز صحت (BHUs) اور رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی تاکہ لوگوں کو ان کے گھروں کے قریب معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں اور غیر ضروری طور پر مریضوں کو بڑے اور تدریسی ہسپتالوں کی طرف ریفر کرنے کا رجحان کم کیا جاسکے۔صوبائی وزیر صحت نے تمام DHOs کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اضلاع میں صحت مراکز کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کریں، مسائل کی بروقت نشاندہی اور حل کو یقینی بنائیں اور صوبائی محکمہ صحت کے ساتھ مؤثر رابطہ اور کوآرڈینیشن برقرار رکھیں۔انہوں نے کہا کہ عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، صفائی، طبی آلات کی فعالیت، درست ڈیٹا، حفاظتی ٹیکہ جات، زچہ و بچہ کی خدمات اور بنیادی مراکز صحت کی مؤثر فعالیت ضلعی صحت انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہئیں۔خلیق الرحمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو معیاری، بروقت اور قابل رسائی صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری محنت، عزم اور جوابدہی کے ساتھ انجام دیں اور جن شعبوں میں کارکردگی یا سروس ڈلیوری میں کمی ہے، وہاں فوری بہتری لائی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی سطح پر صحت کی کارکردگی اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی مسلسل نگرانی اور فالو اَپ جاری رکھا جائے گا تاکہ آنے والے دنوں میں صحت کی سہولیات کے معیار اور عوامی خدمات میں مزید بہتری لائی جاسکے۔