خیبر پختونخوا حکومت عوام کو معیاری صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہیں، صوبائی وزیر صحت

صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت صحت کے شعبے میں الائیڈ ہیلتھ سروسز کو مزید مضبوط بنانے، نوجوان ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے

پشاور۔ 10 ستمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت صحت کے شعبے میں الائیڈ ہیلتھ سروسز کو مزید مضبوط بنانے، نوجوان ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کو معیاری صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ وہ آل پاکستان فزیوتھراپسٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ خیبر پختونخوا نوجوانوں کی بڑی تعداد کے حوالے سے خوش قسمت صوبہ ہے اور فزیوتھراپی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مستقبل میں ماہر اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت مزید بڑھنے والی ہے۔ خلیق الرحمن نے کہا کہ فزیوتھراپی اور بحالیِ صحت کی خدمات کو مؤثر انداز میں فروغ دے کر غیر ضروری ادویات کے استعمال کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے تاہم اس شعبے کو ماضی میں وہ توجہ نہیں مل سکی جس کا یہ مستحق تھا۔ موجودہ حکومت فزیوتھراپسٹس کے مسائل اور تحفظات کو دور کرنے اور انہیں سرکاری نظامِ صحت میں مزید مؤثر کردار دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فزیکل تھراپی کے گریجویٹس کے لیے ہاؤس جاب کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نوجوان فزیوتھراپسٹس کو عملی تربیت اور پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے،اسی طرح فزیوتھراپسٹس کے لیے سروس سٹرکچر کی منظوری ان کے دیرینہ پیشہ ورانہ مسائل کے حل کی جانب اہم قدم ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ محکمہ صحت فزیوتھراپسٹس سے متعلق تمام جائز مسائل اور تحفظات کے حل کے لیے کام کر رہا ہے اور یقین دلاتا ہوں کہ ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوٹہ نشستوں اور بامعاوضہ انٹرن شپ کے مواقع میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نوجوان فزیوتھراپسٹس کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مزید مواقع حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا محکمہ صحت بنیادی اور ثانوی صحت کے نظام میں نئی آسامیوں کی تخلیق پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ BHU اور THQ ہسپتالوں میں مطلوبہ افرادی قوت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مریضوں کی تعداد اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب BHU، THQ اور DHQ ہسپتالوں میں باقاعدہ فزیوتھراپی سروسز کے قیام کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ خلیق الرحمن نے کہا کہ جن مراکزِ صحت میں اس وقت بحالیِ صحت کی سہولیات دستیاب نہیں، وہاں مرحلہ وار فزیوتھراپی کی آسامیوں اور خدمات میں اضافہ کیا جائے گا۔ فزیوتھراپسٹس کو بحالیِ صحت، معذوری سے متعلق خدمات، حادثات کے بعد بحالی اور دائمی بیماریوں کے علاج و بحالی سمیت مختلف شعبوں میں صحت کے سرکاری نظام کا مزید مؤثر حصہ بنایا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جدید فزیوتھراپی اور بحالیِ صحت کے طریقہ کار کو فروغ دینے کے لیے تربیتی اور استعدادِ کار بڑھانے کے پروگراموں پر بھی کام کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو بنیادی فزیوتھراپی اور بحالیِ صحت کی سہولیات کے حصول کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے بلکہ یہ خدمات ان کے قریب دستیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اصلاحات صرف کاغذی منظوریوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ہمارا اگلا مرحلہ ان فیصلوں پر عملی عملدرآمد، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بنیادی سطح تک صحت کی سہولیات کو وسعت دینا ہے۔صوبائی وزیر صحت نے فزیوتھراپسٹس پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ایمانداری، محنت اور لگن کے ساتھ ادا کریں اور اپنی صلاحیتوں اور خدمات کو پاکستان اور خیبر پختونخوا کے بہتر مستقبل کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ترجیح تعداد کے بجائے معیار ہے اور صحت کے شعبے میں ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو عوام کو بہتر، مؤثر اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائیں۔تقریب کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کو شیلڈ پیش کی گئی جبکہ صوبائی وزیر نے تقریب کے انعقاد میں کردار ادا کرنے والی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین کو بھی شیلڈز پیش کیں۔