خیبر پختونخوا حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے عوام کے تحفظ اور امن و امان کو ترجیح دینی چاہیے، رانا ثناء اللہ

خیبر پختونخوا حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے عوام کے تحفظ اور امن و امان کو ترجیح دینی چاہیے، رانا ثناء اللہ

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مسلسل محاذ آرائی کی سیاست پر عمل پیرا ہے، سیاسی جماعتوں کو قومی سلامتی اور شہریوں کی زندگیوں پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے بار بار مارچ نے ملک میں عدم برداشت اور سیاسی محاذ آرائی کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان کا آغاز 2014ء کے دھرنے سے ہوا اور 2022ء، 2024ء کے بعد 2026ء میں بھی اسلام آباد کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جارہا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں حکمرانی، عوامی مسائل اور سکیورٹی صورتحال پر توجہ دینے کے بجائے اسلام آباد مارچ کے لیے سرکاری وسائل استعمال کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکار، سکیورٹی فورسز کے جوان اور عام شہری دہشت گردی کے واقعات میں جانیں قربان کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت اسلام آباد مارچ کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد بھی خیبر پختونخوا ہی کے شہری ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے عوام کے تحفظ اور امن و امان کو ترجیح دینی چاہیے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاسی سرگرمی آئینی حق ہے تاہم سنگین سکیورٹی صورتحال میں سرکاری مشینری اور وسائل کو سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔

ذاتی یا سیاسی ایجنڈے کو قومی مفاد پر ترجیح دینا نہ آئین اور نہ ہی سیاسی اخلاقیات کے مطابق ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر سے احتجاج کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کررہی ہے تاہم اب تک کسی مقام پر چند ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کرسکی۔وزیراعظم کے مشیر نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی تیاری کررہی ہے جس سے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ انسداد دہشت گردی پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے اور دہشت گردوں کے خلاف روزانہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جارہے ہیں۔

انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی، متاثرہ علاقوں کو کلیئر اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی واضح کرچکے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کو اندرون ملک نقل مکانی نہیں کرنا پڑے گی۔رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے انسداد دہشت گردی پالیسی سے متعلق مشاورت سے باہر رکھنے کے دعوے کو بھی غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔انہوں نے سیاسی قوتوں، خصوصاً خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے گورننس، عوامی فلاح اور سیکیورٹی پر توجہ دیں۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکام کو افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے شواہد فراہم کیے ہیں جنہیں افغان حکام نے تسلیم بھی کیا تاہم انہوں نے اس بات کی ضمانت نہیں دی کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔