خیبر پختونخوا کے وزیر ا طلاعات و تعلقات عامہ شوکت یوسفزئی کی پریس کانفرنس

پشاور۔13 اکتوبر(اے پی پی)خیبر پختونخوا کے وزیر ا طلاعات و تعلقات عامہ شوکت یوسفزئی نے جمعیت العلماءاسلام (ف) کے ڈنڈا بردار مارچ کو ریاستی عمل داری کےلئے کھلا چیلنج اور نیشنل ایکشن پلان کے روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حرکت خوف و ہراس پھیلانے اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے‘ اس میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف مقدمے درج کئے جائیں گے اور …

پشاور۔13 اکتوبر(اے پی پی)خیبر پختونخوا کے وزیر ا طلاعات و تعلقات عامہ شوکت یوسفزئی نے جمعیت العلماءاسلام (ف) کے ڈنڈا بردار مارچ کو ریاستی عمل داری کےلئے کھلا چیلنج اور نیشنل ایکشن پلان کے روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حرکت خوف و ہراس پھیلانے اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے‘ اس میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف مقدمے درج کئے جائیں گے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا ، بڑی مشکلوں اور قربانیوںکے بعد اس ملک میں امن و امان قائم ہو ا ہے اور عالمی سطح پر ملک کا امیج بہتر ہو گیا ہے لیکن اس طرح کی حرکتوں سے بیرونی دنیا میں ملک کا امیج خراب ہو رہا ہے اور ہمیں ایک لاقانون ریاست کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن حکومت کسی کو بھی چند ایک مسلح یا ڈنڈا بردار لوگوں کو اکٹھا کرکے ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی ۔ اتوارکے روزپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور مدرسے کے چھوٹے بچوں کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کررہے ہیں جو کہ ایک قابل مذمت عمل ہے ۔ مولانا کو احتجاج کرنا ہے تو قانون کے دائرے میں رہ کر کریں ، حکومت اس کو تحفظ فراہم کرے گی مگر مولانا کے پاس احتجاج کرنے کے لئے کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے ، وہ حکومت کو گرانے کی باتیں کررہے ہیں مگر انہیں یاد ہونا چاہیے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حکومت ہے جسے عوام نے بھاری مینڈیٹ سے منتخب کیا ہے ۔ مولانا کو اگر عوام کے پاس جانا ہے تو اس کےلئے انہیں مزید چار سال انتظار کرنا پڑے گا اور تب بھی عوام انہیں مسترد کریں گے ۔مولانا فضل الرحمان اب بے روزگار ہیں اور وہ اپنے لئے روزگار تلاش کر رہے ہیں ۔ وہ ہر اس نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس کا وہ حصہ نہیں ہوتے ۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان عالمی دنیا میں کشمیر کے سفیر بن کر کشمیریوں کی جنگ لڑ رہے ہیں ، بردار اسلامی ممالک کے درمیان مصالحت کروا رہے ہیں، ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلئے یہ دن رات کوششیں کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف مولانا مہنگائی کا رونا رو کر مدرسے کے بچوں کو اپنی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملک ترقی کی بجائے پسماندگی کی طرف چلا جائے ۔