لاہور۔12 فروری(اے پی پی )گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ آج ہمیں جو بھی مسائل درپیش ہیں ان کا حل صرف زرعی شعبے کی ترقی و خوشحالی میں مضمر ہے جس میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدت لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔وہ بدھ کے روز یہاں نیشنل فود سیکورٹی کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔سیمینار میں وزیر اعلی پنجاب کے …
درپیش مسائل کا حل صرف زرعی شعبے کی ترقی میں مضمر ہے ،گورنر پنجاب محمد سرور کا نیشنل فود سیکورٹی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
لاہور۔12 فروری(اے پی پی )گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ آج ہمیں جو بھی مسائل درپیش ہیں ان کا حل صرف زرعی شعبے کی ترقی و خوشحالی میں مضمر ہے جس میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدت لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔وہ بدھ کے روز یہاں نیشنل فود سیکورٹی کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔سیمینار میں وزیر اعلی پنجاب کے مشیر رفاقت علی گیلانی، وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے صحت حنیف پتافی، سی ای او سن کروپ گروپ ڈاکٹر شفیق سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ جب ہم جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے لئے کوشش کر رہے تھے اس وقت جننگ سیکٹر کے لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کپاس کا بہترین بیج بنایا جائے لیکن یہ معاملہ حل نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ 2015ء میں کپاس کی پیداوار15 ہزار گانٹھیں تھیں جو اب کم ہو کر ساڑھے 8 ہزار پر آ گئی ہیں جو تشویش کی بات ہے۔چودھری محمد سرور نے کہا کہ ہمسایہ ممالک میں کاشتکاروں کو ہر سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ بھارت نے کپاس کی پیداوار بڑھائی اور ہم نے کم کر دی۔انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت پیدا ہوتی جا رہی ہے اور دنیا میں اگر جنگیں ہوئیں تو پانی پر ہونگی اس لئے ہمیں اپنے زرعی مستقبل کو محفوظ و مستحکم بنانے کی غرض سے پانی کے ضیاع کوروکنے کیلئے نہ صرف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہونگے بلکہ پانی ذخیرہ کرنے کے نئے وسائل بھی پیدا کرنا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دن بدن بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اپنی زرعی پیداوار کو بڑھانا ہوگا تاکہ خوراک کے حوالے سے مسائل کو حل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا بڑا چیلنج کسانوں و کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی ہے اور اگر ہم زرعی ادویات صحیح نہیں لائیں گے تو زرعی شعبہ میں مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن نہیں جس سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے ۔چودھری محمد سرور نے کہاکہ انہوں نے چند روز قبل تمام زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ ملاقات کی اور ان سے ماحولیاتی آلودگی اور فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے کاشتکار وں کو دی جانیوالی آگاہی بارے تبادلہ خیال کیا اور ملاقات میں طے پایا کہ کاشتکاروں کو زرعی پیداوار بڑھانے اور فصلات پر مختلف بیماریوں کے حملے سمیت موسمیاتی تبدیلیوںکے بارے انہیں پیشگی آگاہ رکھا جائے اور اس سلسلہ میں آگاہی کے مربوط نظام کو یقینی بنایا جائے۔








