ملتان۔ 26 اکتوبر (اے پی پی):دریائی علاقوں میں کلائمیٹ چینج نے آم کی کاشت کے روایتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے ، جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب نے آم کے ہزاروں درخت تباہ کر دیے، جو کئی برسوں کی محنت سے تیار ہوئے تھے جس نے باغبان کسانوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے ۔معروف پروگریسو فارمر شاہد حمید بھٹہ کے مطابق، سیلاب نے چھوٹے اور …
دریائی علاقوں کے کسان سیلاب سے تباہ شدہ آم کے باغات دوبارہ لگانے سے ہچکچا نے لگے
ملتان۔ 26 اکتوبر (اے پی پی):دریائی علاقوں میں کلائمیٹ چینج نے آم کی کاشت کے روایتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے ، جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب نے آم کے ہزاروں درخت تباہ کر دیے، جو کئی برسوں کی محنت سے تیار ہوئے تھے جس نے باغبان کسانوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے ۔معروف پروگریسو فارمر شاہد حمید بھٹہ کے مطابق، سیلاب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا، کسان بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔ ان کی دس سالہ مسلسل محنت ضائع ہو گئی۔ انہوں نے دوسری فصلیں قربان کر کے آم پر توجہ دی، مگر اب ان کے تمام باغات ختم ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی نرسری میں آم کے نئے پودے موجود ہیں مگر دریائی علاقوں کے بیشتر کسان نئے درخت خریدنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ صرف وہی کسان نئے باغات لگا رہے ہیں جن کے پاس مالی وسائل اچھے ہیں، ورنہ زیادہ تر کے پاس پودے لگانے کے لیے سرمایہ نہیں بچا۔ایک آم کے پودے کی اوسط قیمت پانچ سو روپے ہے، جس کے باعث درخت دوبارہ لگانا کسانوں کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ کئی کسان قرضوں اور مالی خسارے کے باعث نئے باغات لگانے کی سکت نہیں رکھتے۔کسان ناصر عباس نے بتایا کہ ان کی برسوں کی محنت ضائع ہو گئی۔ اب دوبارہ پودے لگانے کا حوصلہ نہیں رہا، ڈر ہے کہ اگلے سال پھر سیلاب نہ آجائے۔اسی طرح مدثر بھٹہ، جن کے درجنوں ایکڑ پر آم کے درخت متاثر ہوئے، انہوں نے بھی اس بار نئے درخت نہیں لگائے۔
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی نے حالات کو غیر یقینی بنا دیا ہے، اس لیے اگلے سال کے سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔شاہد حمید بھٹہ نے بتایا کہ اس بار کا سیلاب غیر معمولی تھا۔ پہلے بھی سیلاب آتے تھے، مگر درختوں کو اتنا نقصان نہیں ہوتا تھا۔ اب معلوم نہیں کہ پانی میں کوئی کیمیکل تھا یا زمین کی ساخت بدل گئی، جس سے درختوں کی جڑیں مر گئیں۔
ایک دوسرے کسان ملک عارف کالرو کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ چینج نے آم کی کاشت کے روایتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اگر کسانوں کی یہ ہچکچاہٹ برقرار رہی تو مستقبل میں آم کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے۔کسانوں نے حکومت پنجاب سے اپیل کی ہے کہ انہیں نرم شرائط پر قرضے، سبسڈی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ باغات لگانے کا حوصلہ کر سکیں۔ بصورت دیگر دریائی پٹی میں آم کے باغات رفتہ رفتہ ختم ہوتے جائیں گے، جو جنوبی پنجاب کی معیشت کے لیے تشویش ناک امر ہے۔









