دس مئی پاکستان کے نئے جنم کا دن، بھارت کے خلاف ہماری جیت کا اعتراف دنیا نے کیا، پاکستان اب مسلم اُمہ کی قیادت اور عالمی ٹائیگر بننے کی راہ پر گامزن ہے ،اختیار ولی خان

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات، امورِ خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ 10 مئی پاکستان کے نئے جنم کا دن ہے۔ یہ وہ منفرد جنگ تھی جس میں دنیا نے پاکستان کی جیت کا اعتراف کیا۔ دشمن کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کا سامنا ایسی قوم سے ہے جو غلیل سے بھی رافیل طیارے گرانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ اسلام آباد میں …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات، امورِ خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ 10 مئی پاکستان کے نئے جنم کا دن ہے۔ یہ وہ منفرد جنگ تھی جس میں دنیا نے پاکستان کی جیت کا اعتراف کیا۔ دشمن کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کا سامنا ایسی قوم سے ہے جو غلیل سے بھی رافیل طیارے گرانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی، مگر پاکستان نے صبر، حوصلے اور امن کے پیغام کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ ہم نے کہا تھا جنگ نہیں، امن بہتر ہے، لیکن دشمن نے ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھا۔ اسے یہ علم نہ تھا کہ پاکستانی قوم شکست نہیں مانتی۔انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کی پہلی جنگ تھی جس میں پاکستان کی کامیابی کو دنیا نے تسلیم کیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے جدید دفاعی ٹیکنالوجی رکھنے والی کئی طاقتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس دن ملک کے ہر کونے میں ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا — پاکستان زندہ باد! — اور یہاں تک کہ ایران کی پارلیمنٹ سے بھی یہی نعرہ بلند ہوا۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ قطر پر حملے کے موقع پر وزیراعظم کا وہاں جانا محض اظہارِ ہمدردی نہیں بلکہ امامتِ مسلم اُمہ کی علامت تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے تو سیاسی قیادت سفارتی محاذ پر ملک کا دفاع کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کا دورہ کسی امداد کے لیے نہیں بلکہ برابری کی سطح پر گفت و شنید کے لیے کیا، جو پاکستان کی خوداعتمادی کی واضح مثال ہے۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کی مضبوط رہنمائی نے قوم کو ایک نئی سمت دی ہے۔

“اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے، یہی قیادت پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہے۔اختیار ولی خان نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے مؤقف کا حامی ہے اور وہی حل قبول کرے گا جو فلسطینی قیادت کو منظور ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو پیغام دیا جاتا ہے کہ پاکستان نہ صرف قائم ہے بلکہ معاشی طور پر مستحکم ہوچکا ہے۔ آج دنیا پاکستان کی ترقی اور استحکام کے چرچے کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقبال کا خواب ابھی مکمل نہیں ہوا، پاکستان کو ایشیائی ہی نہیں بلکہ عالمی ٹائیگر بننا ہے۔ ہم نے دہشت گردی اور بحرانوں کا مقابلہ کیا، اب ترقی اور قیادت کا دور شروع ہوچکا ہے۔