لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ دفاعِ پاکستان کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے اور پروپیگنڈا کرنے والے اور افواہیں پھیلانے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقدہ علماء و مشائخ کانفرنس پر بلاجواز تنقید کی جا رہی ہے جبکہ مثبت کام کو سراہا جانا چاہیے۔ اتوار کے روز جامع مسجد نمرہ …
دفاعِ پاکستان پر کوئی اختلاف نہیں، افواہیں اور پروپیگنڈا ناکام ہوں گے، طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ دفاعِ پاکستان کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے اور پروپیگنڈا کرنے والے اور افواہیں پھیلانے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقدہ علماء و مشائخ کانفرنس پر بلاجواز تنقید کی جا رہی ہے جبکہ مثبت کام کو سراہا جانا چاہیے۔ اتوار کے روز جامع مسجد نمرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم اپنی گفتگو میں نرمی اور برداشت کو فراموش کر چکے ہیں، جس کے باعث معاشرے میں سختی اور تشدد بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ متشدد رویوں کی ہر سطح پر نفی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی مگر ہم قیامِ پاکستان کے اصل مقصد کو بھولتے جا رہے ہیں، جس کا بنیادی ہدف ملک میں عادلانہ نظام کا قیام تھا۔ انہوں نے کہا کہ محراب و منبر سے وابستہ علماء نظریۂ پاکستان کے محافظ ہیں اور ملک میں خلافتِ راشدہ کے اصولوں پر مبنی نظام کے خواہاں ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سپہ سالارِ پاکستان خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ معرکۂ حق اور معرکۂ بنیانِ مرصوص میں کامیابی اللہ تعالیٰ کی نصرت اور قوم کے اتحاد کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے مئی میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا تاہم افواجِ پاکستان نے جوابی کارروائی میں شہری آبادی اور عبادت گاہوں کو نشانہ نہ بنانے کی مثال قائم کی جس پر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح عطا فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا تحقیق کر رہی ہے کہ ایک نسبتاً چھوٹے ملک نے بڑی معیشت اور بھاری اسلحے سے لیس ملک کو کیسے شکست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بہت سی افواج موجود ہیں، مگر دفاعِ حرمین شریفین کا اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہوا جو پوری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ پیغامِ پاکستان کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے جہاد اور فساد کے فرق کو واضح کر دیا ہے جبکہ آج بعض عناصر بے گناہوں کے قتل کو جہاد کا نام دے کر اس کے اصل مفہوم کو مسخ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور علمائے کرام نظریۂ پاکستان کے محافظ ہیں، فوج ہمارے اپنے بیٹوں اور بھائیوں پر مشتمل ہے، اس پر بلاوجہ تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب دفاعِ پاکستان کے لیے متحد ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے بھارتی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی شرمندگی سے بچنے کے لیے ان عالمی کانفرنسوں میں شرکت سے گریز کرتا ہے جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شریک ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان آج بھی دہشت گرد ملک ہے جو آسٹریلیا میں دہشت گردی میں بھی ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو آج بھی فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب تک مکالمہ نہیں ہو گا ،حالات درست نہیں ہو سکتے،سب سیاستدانوں کو مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے ۔








