دنیا بھر میں دو کروڑ بچے مصنوعی ذہانت استعمال کر رہے ہیں ، یونیسف

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں بچے تعلیم، مسائل کے حل اور ذاتی پریشانیوں سے متعلق مشورے حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر رہے ہیں،

نیویارک۔1جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں بچے تعلیم، مسائل کے حل اور ذاتی پریشانیوں سے متعلق مشورے حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر رہے ہیں، جبکہ اس تیزی سے پھیلتی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے موجود ضوابط ناکافی ہیں۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یونیسف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 ممالک سے حاصل ہونے والے نئے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ دو کروڑ بچے مصنوعی ذہانت استعمال کر چکے ہیں، جبکہ نوجوان اس ٹیکنالوجی کو بالغ افراد کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ تیزی سے اپنا رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 20 لاکھ بچے یعنی ہر 10 میں سے ایک بچہ، اپنی ذاتی پریشانیوں سے متعلق مشورے کے لیے مصنوعی ذہانت سے رجوع کرتا ہے، جبکہ ایک کروڑ 30 لاکھ بچے اسے سکول کے کام اور ہوم ورک میں مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یونیسف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور یہ دنیا بھر میں بچوں کی زندگی پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ادارے کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت تعلیم اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم بچوں کی نشوونما، ذہنی و جذباتی صحت اور ممکنہ نقصانات پر اس کے اثرات سے متعلق شواہد ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔یونیسف نے کہا کہ ایک پوری نسل درحقیقت ایک عالمی تجربے کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق بچے خود بھی اس ٹیکنالوجی کے خطرات سے آگاہ ہیں۔ سروے میں شامل ایک تہائی بچوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کو دھوکا دہی یا غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک چوتھائی بچوں کو خوف ہے کہ ان کی تصاویر یا وڈیوز کو جنسی نوعیت کی جعلی وڈیوز (ڈیپ فیک) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یونیسف نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ضوابط کی کمی کے منفی اثرات سب سے پہلے بچوں پر مرتب ہوتے ہیں، حالانکہ اس ٹیکنالوجی کی تیاری یا ان کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ادارے نے مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی مذاکرات سے قبل حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ضوابط بناتے وقت بچوں کے حقوق کو اولین ترجیح دیں۔یونیسف نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنسی استحصال سے تحفظ، بچوں کی نشوونما پر اس کے اثرات سے متعلق مزید تحقیق، محفوظ اور شفاف مصنوعی ذہانت کے نظام، بچوں اور والدین کی ڈیجیٹل آگاہی میں اضافے اور ڈیجیٹل سہولیات تک وسیع رسائی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔