اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 5 سال میں صحت بخش غذا کی لاگت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے باعث دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کے لیے صحت بخش خوراک خریدنا ممکن نہیں رہا۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن ( ایف اے او ) کے چیف اکانامسٹ میکسیمو ٹوریرو سٹیٹ آف فوڈ سکیورٹی …
دنیا کی ایک تہائی آبادی صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔16جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 5 سال میں صحت بخش غذا کی لاگت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے باعث دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کے لیے صحت بخش خوراک خریدنا ممکن نہیں رہا۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن ( ایف اے او ) کے چیف اکانامسٹ میکسیمو ٹوریرو سٹیٹ آف فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن ان دا ورلڈ کے عنوان سے رپورٹ کے اجرا سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ5 سال میں صحت بخش غذا کی عالمی لاگت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اب فی شخص یومیہ 4.28 امریکی ڈالر (خریداری قوتِ مساوات ۔ PPP) تک پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں 2.69 ارب افراد، یعنی دنیا کے تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص، صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ رپورٹ کے مطابق صحت بخش غذا کی لاگت مختلف غذائی گروپوں میں یکساں نہیں ہے۔ بنیادی غذائیں جیسے اناج، غلے اور پھلیاں مجموعی لاگت کا صرف 13 فیصد بنتی ہیں جبکہ جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں تقریباً 30 فیصد لاگت پر مشتمل ہیں۔ اسی طرح پھل اور سبزیاں مجموعی لاگت کا 16 فیصد حصہ ہیں۔ میکسیمو ٹوریرو نے کہا کہ رپورٹ کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ کیلوریز حاصل کرنا نسبتاً سستا ہے لیکن غذائیت سے بھرپور خوراک اب بھی مہنگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج صرف اتنا نہیں کہ کافی مقدار میں خوراک یا کیلوریز پیدا کی جائیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ غذائیت سے بھرپور خوراک کو زیادہ سستا اور قابلِ رسائی بنایا جائے کیونکہ یہی صحت بخش غذا کی مجموعی لاگت میں کمی لانے کا موثر طریقہ ہے۔








