جوہانسبرگ ۔4نومبر (اے پی پی):ماہرین نے دولت کی عدم مساوات کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایک بین الاقوامی پینل تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جی 20 ممالک کے رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دولت کی عدم مساوات ایک ایسا عالمی بحران بن چکی ہے جو جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اے ایف پی کے مطابق نوبیل …
دولت کی عدم مساوات جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہے ، بحران سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی پینل تشکیل دیا جائے، اقتصادی ماہرین

مزید خبریں
جوہانسبرگ ۔4نومبر (اے پی پی):ماہرین نے دولت کی عدم مساوات کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایک بین الاقوامی پینل تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جی 20 ممالک کے رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دولت کی عدم مساوات ایک ایسا عالمی بحران بن چکی ہے جو جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اے ایف پی کے مطابق نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات جوزف اسٹگلس کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عدم مساوات کا ہنگامی بحران دنیا بھر میں اربوں افراد کو بھوک اور غربت کی طرف دھکیل رہا ہے اور یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے باعث مزید خراب ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ عدم مساوات پر مبنی پینل اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے آئی پی سی سی کی طرز پر قائم کیا جائے جو ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کا تجزیہ کرتا ہے اور حل تجویز کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک شخص باقاعدگی سے کھانے سے محروم ہے جبکہ ارب پتی افراد کی دولت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق 2000 سے 2024 کے درمیان دنیا کی 1 فیصد آبادی نے تمام نئی دولت کا 41 فیصد حاصل کیا جبکہ غریب ترین 50 فیصد کو صرف 1 فیصد حصہ ملا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ انفرادی آمدنی میں عالمی سطح پر کچھ کمی آئی ہے، لیکن وراثتی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اور آئندہ 10 سالوں میں 700 کھرب ڈالر اگلی نسل کو منتقل ہونے کا امکان ہے۔جوزف اسٹگلس نے کہاکہ دنیا کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ ہم ایک ماحولیاتی ہنگامی صورتحال میں ہیں، اب وقت ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ ہم عدم مساوات کے ہنگامی بحران سے بھی دوچار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بحران نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی، معیشت اور سیاست کے لیے بھی خطرناک ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی تجارتی پالیسیاں خصوصاً ٹرمپ حکومت کے نافذ کردہ ٹیرف عالمی سطح پر عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جب طاقتور ممالک عالمی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام سے ہٹ کر طاقتوروں کے قانون پر عمل کرتے ہیں تو یہ غیر مساوی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ڈھانچے کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
یہ رپورٹ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کی درخواست پر تیار کی گئی، جن کے ملک کو دنیا کے سب سے زیادہ غیر مساوی ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی عدم مساوات جمہوریت کو کمزور کرتی ہے، اداروں پر عوامی اعتماد ختم کرتی ہے اور سیاسی انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے۔ورلڈ بینک کے مطابق دنیا کے 80 فیصد ممالک میں عدم مساوات کی سطح انتہائی بلند ہے اور ایسے ممالک میں جمہوری زوال کا امکان سات گنا زیادہ ہوتا ہے۔چھ رکنی کمیٹی نے سفارش کی کہ بین الاقوامی پینل برائے عدم مساوات تشکیل دیا جائے جو زمین کی ملکیت، ٹیکس چوری اور کارپوریٹ اجارہ داریوں سمیت تمام پہلوؤں کا تجزیہ کرے۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ارب پتیوں پر منصفانہ ٹیکس عائد کیا جائے، بڑی کمپنیوں کی اجارہ داریوں کو توڑا جائے اور زیادہ مقروض ممالک کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں۔جنوبی افریقہ اس وقت جی 20 کی صدارت کرنے والا پہلا افریقی ملک ہے، جس میں 19 ممالک، افریقی یونین اور یورپی یونین شامل ہیں۔ یہ گروپ دنیا کی 85 فیصد معیشت، 75 فیصد تجارت اور دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 22 اور 23 نومبر کو ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔جوزف اسٹگلس نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ واشنگٹن اس تجویز کی حمایت کرے گالیکن امید ہے کہ زیادہ تر ممالک بالآخر اس اقدام کا حصہ بن جائیں گے۔صدر رامافوسا نے رپورٹ کو برابری کے لیے ایک عملی خاکہ قرار دیا اور کہا کہ جنوبی افریقہ اپنی جی 20 صدارت کے دوران اس ایجنڈے کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گا۔انہوں نے کہاکہ عدم مساوات سے نمٹنا ہماری نسل کی ناگزیر ذمہ داری ہے اور یہ رپورٹ اس کے حل کے لیے دانشمندانہ اور قابل عمل اقدامات تجویز کرتی ہے۔








