اسلام آباد۔11مارچ (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ رواں سال 2021 کے دوران مجموعی عالمی پیداوار میں 5.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، سال 2022 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد رہنے کاامکان ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ مختلف ممالک اور خطوں میں معاشی بحالی کی شرح متاثر ہونے کاخدشہ ہے کیونکہ …
دوہزار اکیس کے دوران مجموعی عالمی پیداوار میں 5.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، سال 2022 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد رہنے کاامکان ہے،عالمی مالیاتی فنڈ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11مارچ (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ رواں سال 2021 کے دوران مجموعی عالمی پیداوار میں 5.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، سال 2022 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد رہنے کاامکان ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ مختلف ممالک اور خطوں میں معاشی بحالی کی شرح متاثر ہونے کاخدشہ ہے کیونکہ دنیا کے اکثر ممالک میں ایک طرف کورونا ویکسین کی دستیابی کے مسائل ہیں تو دوسری جانب نئے وائرسز کے پھیلنے کے خطرات بھی موجود ہیں۔
عالمی ادارہ نے کہا ہے کہ اس تناظر میں عالمی معیشت دوراہے پر کھڑی ہے تاہم پالیسی ساز جامع حکمت عملی سے ایک بڑی معاشی سست روی سے دنیا کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ کووڈ۔19 کی وبا سے قبل کے مقابلہ میں ترقی یافتہ ممالک میں اوسط فی کس آمدنی 2022 کے ختم ہونے تک 13 فیصد کم رہے گی جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں فی کس آمدنی کی اوسط شرح کورونا کی وبا پھوٹنے سے قبل کے مقابلہ میں 18 فیصد تک کم رہنے کاامکان ہے تاہم چین کے علاوہ ابھرتی معیشتوں میں یہ شرح 22 فیصد کم ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ کووڈ۔19 کی عالمی وبا پھوٹنے سے قبل کے عرصہ کے مقابلہ میں سال 2021 اور 2022 کے دوران اوسط فی کس آمدنی میں کمی کے باعث ترقی پذیر ممالک کے لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتےہیں۔
آئی ایم ایف نے قبل ازیں اپنی ایک رپورٹ میں کہاتھا کہ 22-2020 کے دوران ترقی یافتہ ممالک اور 110 ابھرتی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک میں آمدنی کافرق کم ہو سکتا ہے تاہم اب کہا گیا ہے کہ صرف 52 ممالک کی آمدنی کا فرق کم ہونے کا امکان ہے جبکہ 58 ممالک یہ فرق مزید بڑھنے کاخدشہ ہے۔








