اقوام متحدہ۔22ستمبر (اے پی پی):فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا کہ دو ریاستی حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی عوام اپنے مکمل، جائز قومی حقوق سے لطف اندوز ہوئے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے، وہ غلطی پر ہیں ۔ انہوں نے اقوام متحدہ …
دو ریاستی حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا، محمود عباس

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔22ستمبر (اے پی پی):فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا کہ دو ریاستی حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی عوام اپنے مکمل، جائز قومی حقوق سے لطف اندوز ہوئے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے، وہ غلطی پر ہیں ۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی کانفرنس بلائیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جو تاریخی لحاظ سے ر دونوں فریقوں کے درمیان امن کے لئے سہولت کار ہے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سخت دائیں بازو کی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کو ترک کر دیا ہے، جس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازعہ بستیوں کو آگے بڑھایا ہے۔
عباس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کانفرنس "دو ریاستی حل کو بچانے اور حالات کو مزید سنگینی سے بگڑنے اور ہمارے خطے اور پوری دنیا کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے سے بچانے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ خطاب نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات کے بعد ہوا۔ اسرائیل اور امریکہ کا خیال ہے کہ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات کے محافظ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات مشرق وسطیٰ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔








