زرعی ماہرین کی ترشاوہ پھلوں کے کاشتکاروں کو گریننگ بیماری اور جدید باغبانی طریقے اپنانے کی ہدایت
زرعی ماہرین کی ترشاوہ پھلوں کے کاشتکاروں کو گریننگ بیماری اور جدید باغبانی طریقے اپنانے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 13 ستمبر (اے پی پی):زرعی ماہرین نے ترشاوہ پھلوں کے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ ترشاوہ باغات کو متعدد ماحولیاتی عناصر، بیماریوں اور پیداواری مسائل کے تناظر میں بیماری سے پاک نرسریوں کے قیام، کھادوں کے متوازن استعمال، مؤثر جڑی بوٹیوں کی تلفی، مناسب آبپاشی اور جدید باغبانی طریقوں کو اپنانا ناگزیرہے تاکہ ترشاوہ باغات کو گریننگ بیماری سمیت دیگر خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زیر اہتمام چک جاکھڑا332گ ب میں منعقدہ ترشاوہ پھلوں کے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سیمینار بعنوان ”ترشاوہ باغات کی بڑھوتری اور پیداوار بہتر بنانے کے لیے نباتاتی افزائشی ضابطہ کار کا استعمال“ کا انعقادہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسزمیں جاری منصوبہ ”موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ترشاوہ جرثوموں کا تعارف اور جدید ترشاوہ باغ کا قیام“ کے تحت چین پاکستان باغبانی تحقیق و مظاہراتی مرکز اور چین کی ہواژونگ زرعی یونیورسٹی کے اشتراک سے کیا گیا۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اعظم نے کاشتکاروں کو تنبیہ کی کہ باغات میں کھادوں کے متوازن استعمال، مناسب آبپاشی و کھاد، بروقت شاخ تراشی اور خشک و بیمار شاخوں کی تلفی کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ بدلتے موسمی حالات، درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کے باعث ترشاوہ باغات کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جدید اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ باغبانی طریقوں کو اپنانا ہوگا۔ڈاکٹر محمد اعظم نے کہا کہ پانی کے مؤثر استعمال، بہتر باغاتی انتظام اور موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے والی پیداواری حکمت عملی کے ذریعے پھل کی پیداوار اور معیار کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ منصوبے کے تحت ترشاوہ باغات میں نباتاتی افزائشی ضابطہ کار اور خرد غذائی اجزا کے استعمال سے پودوں کی سبز بڑھوتری اور تولیدی کارکردگی میں بہتری سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو مناسب باغاتی انتظام کے ساتھ مربوط کرکے صحت مند پودوں، بہتر معیار کے پھل، زیادہ پیداوار اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔ترقی پسند کاشتکار عبدالعزیز نے کھادوں کے متوازن استعمال اور جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر متوازن کھادوں کے استعمال سے زمین کی صحت اور فصل کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی روقت تلفی سے پانی اور غذائی اجزا کے ضیاع کو کم کرکے باغات کی پیداواری صلاحیت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔پاکستان ہارٹیکلچر ایکسپورٹ بورڈ کے محمد ارسلان خان نے کہا کہ عالمی منڈی میں پاکستانی ترشاوہ پھلوں کی مسابقت بڑھانے کے لیے پیداوار کے ساتھ ساتھ معیار اور برداشت کے بعد کی دیکھ بھال پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں کی مناسب درجہ بندی، معیاری پیکنگ، اور عالمی معیار کے غذائی تحفظ کے تقاضوں پر عمل درآمد برآمدات میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔







