دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں گرفتاری اور 2 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں ہو سکتی ہیں،محکمہ زراعت سیالکوٹ

اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم نے کہا ہے کہ کاشتکار سموگ کے خطرات کے پیش نظر دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں اور مڈھوں کی تلفی کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں

سیالکوٹ۔15ستمبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم نے کہا ہے کہ کاشتکار سموگ کے خطرات کے پیش نظر دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں اور مڈھوں کی تلفی کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے سنگین اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک شکل ہے جو ٹھہری ہوئی ہوا میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈرو کاربن سمیت مختلف مضر گیسوں اور ذرات کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سموگ نہ صرف انسانی صحت بلکہ جانوروں، پودوں، فصلوں اور مجموعی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ سموگ کی بڑی وجوہات میں ٹریفک اور صنعتی اداروں سے خارج ہونے والا دھواں شامل ہے، تاہم فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا اہم سبب ہے۔انہوں نے کہا کہ دھان کی فصل برداشت اور کٹائی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، اس لیے کاشتکار فصل کی کٹائی کے بعد مڈھوں اور دیگر باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ دھان کے مڈھوں کو جلانے سے نہ صرف فضائی آلودگی اور سموگ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ اور مفید اجزا بھی متاثر ہوتے ہیں، جس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے بجائے انہیں زمین میں شامل کیا جائے تاکہ نامیاتی مادے میں اضافہ اور زمین کی زرخیزی بحال رکھنے میں مدد مل سکے۔ دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر جبکہ مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کے ذریعے فصل کی باقیات کو زمین میں ملایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح گہرا ہل چلا کر فی ایکڑ آدھی بوری یوریا چھٹہ کرنے کے بعد پانی لگانے سے بھی فصل کی باقیات کو زمین میں تحلیل کرنے اور زمین کی زرخیزی و پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں قانون کے تحت ایف آئی آر کا اندراج، گرفتاری اور 2 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کی روک تھام، انسانی زندگیوں اور فصلات کو مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے سے مکمل اجتناب کریں اور محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات کے مطابق مڈھوں کو تلف کریں۔