ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم مکمل ،پانچ سال سے کم عمر 2 کروڑ 93 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے

حکومتِ پاکستان کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام (PEI) کے تحت جاری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کامیابی سے مکمل ہوگئی

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):حکومتِ پاکستان کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام (PEI) کے تحت جاری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کامیابی سے مکمل ہوگئی۔ مہم کے دوران منتخب زیادہ خطرے والے اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 2 کروڑ 93 لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی مسلسل محنت اور ملک بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہمات کے نتیجے میں پاکستان میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز کے مقابلے میں 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 31 رہ گئی، جبکہ 2026 میں اب تک 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ رواں سال رپورٹ ہونے والے 6 کیسز میں سے 4 جنوبی خیبرپختونخوا سے سامنے آئے ہیں، جہاں سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث بعض بچوں تک ویکسین کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔21 سے 27 ستمبر 2026 تک 113 اضلاع میں منعقد ہونے والی ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم رواں سال کی چوتھی پولیو ویکسی نیشن مہم اور 2026 کی دوسری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم تھی۔ مہم پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے منتخب زیادہ خطرے والے اضلاع میں منعقد کی گئی۔ مہم کے دوران ان بچوں تک خصوصی توجہ کے ساتھ رسائی حاصل کی گئی جو ویکسین سے محروم رہ گئے تھے، جنہیں تاحال ویکسین کی کوئی خوراک نہیں ملی تھی یا جو سابقہ مہمات میں بھی ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ موبائل، نقل مکانی کرنے والی اور دیگر زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں کے بچوں تک بھی رسائی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔پنجاب کے دو اضلاع، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں دیگر ضروری فرائض کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث مہم مؤخر کی گئی۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر یقینی بنائے گا کہ ان اضلاع میں مہم بعد میں منعقد کی جائے اور تمام اہل بچوں تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے۔مہم کے دوران 2 لاکھ 73 ہزار سے زیادہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز، جن میں مرد و خواتین ویکسینیٹرز شامل تھے، گھر گھر ویکسی نیشن کی سرگرمیوں کے لیے تعینات کیے گئے۔ ٹیموں نے اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا کہ ہر اہل بچے کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے پلائے جائیں۔ اس وسیع فیلڈ آپریشن میں صوبائی و ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شراکت دار تنظیموں نے بھرپور تعاون فراہم کیا۔مہم کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 11 اضلاع میں 90 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ بچوں کو پولیو ویکسین پلائی گئی، جبکہ سندھ کے 30 اضلاع میں ایک کروڑ 14 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ خیبرپختونخوا کے 37 اضلاع میں 72 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ بچوں کو پولیو ویکسین پلائی گئی، جبکہ بلوچستان کے 32 اضلاع میں 23 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد میں 4 لاکھ 43 ہزار سے زیادہ بچوں جبکہ گلگت بلتستان کے دو اضلاع میں تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین پلائی گئی۔مہم کے دوران 113 منتخب اضلاع میں مقررہ ہدف کے 100 فیصد بچوں تک رسائی حاصل کی گئی۔ رپورٹ شدہ رہ جانے والے بچوں میں سے 14.8 فیصد بچے پہلی مرتبہ گھر گھر دورے کے دوران عدم دستیابی، انکار یا دیگر وجوہات کی بنا پر ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ بعد ازاں خصوصی طور پر کیے گئے فالو اَپ اقدامات کے نتیجے میں ابتدائی طور پر رہ جانے والے 86 فیصد بچوں تک رسائی حاصل کی گئی، جس سے ملک بھر میں ویکسی نیشن کوریج کے خلا کو مزید کم کرنے میں مدد ملی۔ مجموعی طور پر 627,776 بچے، جو مہم کے کل ہدف کا 2.1 فیصد ہیں، ویکسی نیشن سے محروم رہ گئے۔ستمبر کی یہ پولیو مہم افغانستان میں بھی بیک وقت منعقد کی گئی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مربوط ویکسی نیشن کی کوششوں کو تقویت ملی۔ اس مشترکہ اقدام سے آبادی میں قوتِ مدافعت بڑھانے اور سرحد پار پولیو وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے کے اقدامات مزید مؤثر بنانے میں مدد ملی۔اگرچہ مہم کے ہدف کا حصول ویکسی نیشن ٹیموں اور شراکت دار اداروں کی بھرپور کوششوں کا نتیجہ ہے، تاہم پولیو وائرس کی منتقلی کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی اور ویکسی نیشن کا عمل جاری رکھنا ناگزیر ہے۔ مسلسل مہمات کے ذریعے بچوں کو بار بار پولیو ویکسین پلانے سے انہیں اضافی تحفظ فراہم ہوتا ہے اور آبادی میں قوتِ مدافعت کی بلند سطح برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے، بالخصوص ان علاقوں اور آبادیوں میں جہاں وائرس کی منتقلی کا خطرہ زیادہ ہو۔نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے مہم کے دوران خدمات انجام دینے والے 2 لاکھ 73 ہزار سے زیادہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے عزم، محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ نیشنل ای او سی نے والدین اور نگہداشت کرنے والوں، کمیونٹیز، صوبائی و ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، شراکت دار اداروں اور میڈیا کے تعاون کو بھی سراہا، جنہوں نے مہم پر مؤثر عمل درآمد اور ہر اہل بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔نیشنل ای او سی نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو ویکسین کے دو قطرے ضرور پلوائیں، خواہ بچے کو اس سے قبل کتنی ہی خوراکیں کیوں نہ دی جا چکی ہوں۔ والدین سے یہ بھی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو معمول کی حفاظتی ویکسی نیشن کے شیڈول میں شامل تمام ویکسینز بروقت لگوانا یقینی بنائیں تاکہ ویکسین سے بچاؤ کے قابل بیماریوں کے خلاف بچوں کو مسلسل اور مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔نیشنل ای او سی نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو ویکسین کے دو قطرے ضرور پلوائیں، خواہ بچے کو اس سے قبل کتنی ہی خوراکیں کیوں نہ دی جا چکی ہوں۔ والدین سے یہ بھی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو معمول کی حفاظتی ویکسی نیشن کے شیڈول کے مطابق تمام ضروری ویکسینز بروقت لگوانا یقینی بنائیں، تاکہ بچوں کو بیماریوں کے خلاف مؤثر اور مسلسل تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ان کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنایا جا سکے۔مزید معلومات، مدد یا ویکسی نیشن سے متعلق سوالات کے لیے شہری صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 یا پولیو واٹس ایپ ہیلپ لائن 0346-7776546 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔