راولپنڈی، گرمی کی شدت میں اضافے پر محکمہ صحت اور ڈاکٹرز کی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے اور شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خطرے کے پیشِ نظر تمام ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک کاؤنٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔ عوام کو براہ راست سورج کی روشنی سے بچنے، زیادہ پانی پینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

راولپنڈی۔ 09 جون (اے پی پی):پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے اور شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خطرے کے پیشِ نظر تمام ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک کاؤنٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔ عوام کو براہ راست سورج کی روشنی سے بچنے، زیادہ پانی پینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔محکمہ صحت اور ماہرینِ امراض نے گرمی کی شدت میں اضافے کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں ۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق شدید گرمی کے باعث ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر موسمی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ دن کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ پانی، تازہ جوس اور مشروبات کا استعمال کریں، ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور بلا ضرورت دوپہر کے وقت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ دھوپ میں کام کرنے والے افراد سر کو کپڑے یا ٹوپی سے ڈھانپ کر رکھیں اور وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ماہرین صحت نے والدین پر زور دیا ہے کہ بچوں کو دھوپ میں کھیلنے سے روکیں جبکہ بزرگ افراد اور مریض ٹھنڈی اور ہوادار جگہوں پر قیام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو چکر آنا، شدید پیاس، سر درد، متلی یا بے ہوشی جیسی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں ۔محکمہ صحت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گرمی کی موجودہ لہر کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

مزید خبریں