راولپنڈی رنگ روڈ کو جدید اقتصادی کوریڈور اور پائیدار میٹروپولیٹن شاہراہ بنایا جائے، مکین شہباز

راولپنڈی رنگ روڈ کو روایتی بائی پاس کی بجائے ایک جدید اقتصادی کوریڈور اور پائیدار میٹروپولیٹن شاہراہ میں تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت منصوبے کے دونوں اطراف عالمی ماڈل کے مطابق کمرشل زوننگ، عوامی سہولیات اور ملحقہ آبادیوں کے لیے مربوط فیڈر لنکس کا قیام ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

راولپنڈی۔19اکتوبر (اے پی پی):راولپنڈی رنگ روڈ کو روایتی بائی پاس کی بجائے ایک جدید اقتصادی کوریڈور اور پائیدار میٹروپولیٹن شاہراہ میں تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت منصوبے کے دونوں اطراف عالمی ماڈل کے مطابق کمرشل زوننگ، عوامی سہولیات اور ملحقہ آبادیوں کے لیے مربوط فیڈر لنکس کا قیام ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ یہ تکنیکی و ترقیاتی خاکہ معروف میٹروپولیٹن پلانر، ٹریفک انجینئرنگ کے ماہر اور سابق ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) مکین شہباز نے پیش کیا ہے، جو گزشتہ 35 سال سے رنگ روڈ کے ابتدائی سروے، الائنمنٹ اور ماسٹر پلاننگ کے عمل کا حصہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے جدید شہروں میں رنگ روڈز شہری پھیلائوکو منظم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو متحرک رکھنے کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اگر راولپنڈی رنگ روڈ کے دونوں اطراف منظم ماسٹر پلان کے تحت تجارتی سرگرمیاں، انڈسٹریل زونز، لاجسٹکس ہب اور بزنس پارکس قائم کیے جائیں تو اس سے نہ صرف نجی سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے بلکہ حکومت کے ریونیو میں بھی مستقل اضافہ ممکن ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ راولپنڈی کے گنجان اندرونی علاقوں پر آبادی اور ٹریفک کا بوجھ کم کرنے کے لیے شہری سہولیات کی بیرونی کوریڈور پر منتقلی ناگزیر ہے، اس مقصد کے لیے رنگ روڈ کے اطراف معیاری تعلیمی ادارے، جدید ہسپتال، پبلک پارکس اور تفریحی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ مقامی آبادی اور بیرونی علاقوں سے آنے والے مسافروں کو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے اندرونِ شہر نہ جانا پڑے اور شہری ڈھانچے پر دبائو خودبخود کم ہو جائے۔

سابق ڈی جی آر ڈی اے مکین شہباز نے منصوبے کی مکمل افادیت کو فیڈر روڈ نیٹ ورک کے قیام سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ، چکری، روات، ٹیکسلا اور گردونواح کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری و دیہی آبادیوں کو موثر فیڈر لنکس کے ذریعے براہِ راست رنگ روڈ سے منسلک کیا جائے۔ ان لنکس کے قیام سے مضافاتی علاقوں کو مرکزی مارکیٹوں تک رسائی ملے گی جبکہ بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹریفک بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں رہے گی۔

انہوں نے اربن پلاننگ حکام اور حکومتِ پنجاب پر زور دیا کہ موجودہ مرحلے پر منظم کمرشل پالیسی اور فیڈر لنکس کو منصوبے کا لازمی جزو بنایا جائے بصورت دیگر مستقبل میں اطراف کی اراضی پر بے ہنگم اور غیر منظم تعمیرات اس اہم قومی منصوبے کی بنیادی ساخت اور افادیت کو نقصان پہنچائیں گی۔ انہوں نے اپیل کی کہ پائیدار شہری منصوبہ بندی کے تحت راولپنڈی رنگ روڈ کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ایک خود کفیل اقتصادی کوریڈور کے طور پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

مزید خبریں