اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) رواں مالی سال میں ملک میں زراعت کے شعبہ میں 2.8 فیصد اضافہ کا امکان ہے ۔ اہم فصلوں میں بڑھوتری کی شرح 1.9 فیصد ، دیگرفصلوں میں 1.5 فیصد ، کاٹن 0.9 فیصد۔ لائیوسٹال 3.5 فیصد، فشریز 1.5 فیصداورفارسٹری کے شعبہ میں 2.1 فیصد اضافہ متوقع ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران زراعت کے شعبہ میںمجموعی طورپر2.67 فیصد بڑھوتری ریکارڈکی گئی …
رواں مالی سال میں ملک کے زرعی شعبہ میں 2.8 فیصد اضافہ کا امکان ہے، وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) رواں مالی سال میں ملک میں زراعت کے شعبہ میں 2.8 فیصد اضافہ کا امکان ہے ۔ اہم فصلوں میں بڑھوتری کی شرح 1.9 فیصد ، دیگرفصلوں میں 1.5 فیصد ، کاٹن 0.9 فیصد۔ لائیوسٹال 3.5 فیصد، فشریز 1.5 فیصداورفارسٹری کے شعبہ میں 2.1 فیصد اضافہ متوقع ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران زراعت کے شعبہ میںمجموعی طورپر2.67 فیصد بڑھوتری ریکارڈکی گئی ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہی گئی ہے۔اپ ڈیٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمگیروبا کی وجہ سے پاکستان میں زراعت کے شعبہ پرکوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ گزشتہ مالی سال میں زراعت کے شعبہ میں 2.67 فیصد بڑھوتری ہوئی،گندم، چاول اورمکئی کی پیداوارمیں اضافہ کی وجہ سے اہم فصلوں کی پیداوارکی شرح میں 2.90 فیصد اضافہ ہوا، گندم کی پیداورمیں 2.45 فیصد، چاول 2.89 فیصد اورمکئی کی پیداوارمیں 6.01 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دیگرفصلوں کی پیداوارمیں مجموعی طورپر4.57 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا جس کی بنیادی وجہ دالوں، تیل داربیجوںاور سبزیوں کی پیداوارمیں اضافہ ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کاٹن کی پیداورمیں 4.61 فیصد کی کمی ہوئی جس کی بنیادی وجہ کاشت میں کمی ہے۔ اس عرصہ میں لائیوسٹاک کے شعبہ میں 2.58 فیصد کی بڑھوتری ہوئی۔ فارسٹری اورماہی گیری کے شعبہ میں اضافہ کی شرح بالترتیب 2.29 اور0.60 فیصد رہی۔ وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال میں زراعت کے شعبہ میں 2.8 فیصد اضافہ کا امکان ہے ۔ اہم فصلوں میں بڑھوتری کی شرح 1.9 فیصد ، دیگرفصلوں میں 1.5 فیصد ، کاٹن 0.9 فیصد، لائیوسٹال 3.5 فیصد، فشریز 1.5 فیصداورفارسٹری کے شعبہ میں 2.1 فیصد اضافہ کا امکان ہے۔زراعت کے شعبہ کی اہمیت کے پیش نظر حکومت نے زرعی ایمرجنسی پروگرام کی منظوری دی ہے جس کا حجم 277 ارب روپے ہے، کووڈ۔19 کے اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 50 ارب روپے کے زرعی مالیاتی پیکج کا بھی اعلان کیاہے جس کے تحت کاشت کاروں کو کھاد، کاٹن سیڈز اورکیڑے مارادوایات پرسبسڈی دی جائیگی، کسانوں کیلئے قرضوں پرشرح سودمیں کمی اورمقامی ٹریکٹروں پرسیلز ٹیکس میں زرتلافی کیلئے بھی اقدامات کیے گئے ہیں ۔ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے جاری مالی سال کے بجٹ میں 10 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت نے کھادوں پرسبسڈی کیلئے 37 ارب مختص کئے ہیں۔ ڈی اے پی اوردیگرفاسفیٹ کھادوں پر 925 روپے اوریوریا پر243 روپے فی تھیلہ کی سبسڈی دی جارہی ہے۔








