روس اور چین کے تعلقات تاریخی بلندی پر پہنچ گئے ہیں ، ولادیمیر پیوٹن

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی اور بے مثال سطح‘تک پہنچ چکے ہیں۔

ماسکو ۔19مئی (اے پی پی):روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی اور بے مثال سطح‘تک پہنچ چکے ہیں۔ شنہوا کے مطابق انہوں نے یہ بیان چین کے سرکاری دورے سے قبل ویڈیو خطاب میں دیا۔روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور مسلسل رابطے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ان کی ’’لامحدود صلاحیت‘‘ کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، برابری کی بنیاد پر تعاون، احترام پر مبنی مذاکرات اور ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کے تحفظ کی حمایت پر قائم ہیں۔روسی صدر نے یاد دلایا کہ 25 برس قبل روس اور چین کے درمیان ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کا معاہدہ طے پایا تھا، جس نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھی۔پیوٹن کے مطابق روس اور چین سیاست، معیشت، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باہمی لین دین اب زیادہ تر روبل اور یوآن میں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے چینی صدر سی جن پنگ کی روس کے ساتھ طویل المدتی تعاون کی پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات مستقبل کے بڑے منصوبوں کو عملی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔پیوٹن نے مزید کہا کہ روس اور چین عالمی امن، استحکام اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر بھی قریبی تعاون جاری ہے۔واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 19 سے 20 مئی تک چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔