ایس ای سی پی ٹاک سیریز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ ریگولیٹڈ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹس) پراپرٹی کو فارمل معیشت میں لانے اور اسے کیپٹل مارکیٹس سے جوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں تاہم ان کی ترقی کا انحصار شفاف ویلیویشن، بہترین گورننس اور ٹیکس کے آسان قوانین پر ہے۔کمشنر امتیاز حیدر نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ریٹس …
ریئل اسٹیٹ کا پیسہ کیپٹل مارکیٹ میں لانے کے لیے ریٹس اہم ذریعہ ہیں، ایس ای سی پی ٹاک سیریز

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):ایس ای سی پی ٹاک سیریز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ ریگولیٹڈ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹس) پراپرٹی کو فارمل معیشت میں لانے اور اسے کیپٹل مارکیٹس سے جوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں تاہم ان کی ترقی کا انحصار شفاف ویلیویشن، بہترین گورننس اور ٹیکس کے آسان قوانین پر ہے۔کمشنر امتیاز حیدر نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ریٹس موٹرویز، پلوں، انرجی پارکس اور لاجسٹکس ہبز جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے پرائیویٹ سرمایہ کاری کو متحرک کر سکتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ سرکاری اثاثوں کو کارآمد بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے بھی ریٹس کے استعمال کا جائزہ لینے کی تجویز دی۔پریزنٹیشنز میں بتایا گیا کہ مارچ 2026ء تک پاکستان میں 29 ریٹس سکیمیں رجسٹرڈ تھیں جن کے مجموعی فنڈ کا سائز دسمبر 2025ء میں 173.1 ارب روپے تھا۔ عالمی سطح پر 2024ء کے اختتام تک 1,021 لسٹڈ ریٹس کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.04 ٹریلین امریکی ڈالر تھی۔آئی ایس ای ریٹ مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین زاہد لطیف خان نے 2.04 ٹریلین امریکی ڈالر کی عالمی ریٹس مارکیٹ پر روشنی ڈالی اور مقامی مثال کے طور پر 5.67 ارب روپے کے آئی ایس ای ٹاورز رینٹل ریٹ کو پیش کیا۔ انہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں رینٹل، ڈویلپمنٹل، ہائبرڈ اور پارکنگ ریٹس کے پوٹینشل کا خاکہ بھی پیش کیا۔عارف حبیب ڈولمن ریٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو محمد اعجاز نے ڈولمن سٹی ریٹ اور گلوب ریزیڈنسی ریٹ کو مقامی مثالوں کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 30 ستمبر 2026ء تک ڈولمن سٹی ریٹ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 86.88 ارب روپے تھی اور دونوں پراپرٹیز میں آکیوپینسی 97 فیصد سے زیادہ رہی۔ انہوں نے اس شعبے کی ترقی کے لیے پراپرٹی ٹرانسفر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو معقول بنانے اور سرمایہ کاری کی حدود کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ریٹس کے منافع اور لیکیویڈیٹی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ان کا تمام تر انحصار بنیادی اثاثوں، سکیم کے ڈھانچے اور مارکیٹ کے حالات پر ہوتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے آزادانہ ویلیویشن، ٹرسٹیز کی نگرانی، واضح معلومات کی فراہمی اور سرمایہ کاروں میں آگاہی کو ضروری قرار دیا گیا۔اجلاس میں ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو، کمشنرز امتیاز حیدر، مظفر احمد مرزا اور علی فرید خواجہ کے علاوہ کاروباری شخصیات، طلباء اور وکلاء نے شرکت کی۔تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا جس کے بعد مقررین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔








