اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر اور پنشن کم کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں، کوئی بھی ترمیم ہوئی تو پارلیمان ہی اس کی مجاز ہو گی، حکومت سول سروس ریفارمز پر کام کر رہی ہے، افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔ جمعہ کو ایوان بالا میں سینیٹر میر محمد …
ریٹائرمنٹ کی عمر اور پنشن کم کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں، کوئی بھی ترمیم ہوئی تو پارلیمان ہی اس کی مجاز ہو گی، افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کاایوان بالا میں سینیٹر میر محمد احمد کبیر شاہی اور سینیٹر اے رحمن ملک کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر اور پنشن کم کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں، کوئی بھی ترمیم ہوئی تو پارلیمان ہی اس کی مجاز ہو گی، حکومت سول سروس ریفارمز پر کام کر رہی ہے، افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔ جمعہ کو ایوان بالا میں سینیٹر میر محمد احمد کبیر شاہی اور سینیٹر اے رحمن ملک کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ رحمن ملک نے جس طرح آج آئی ایم ایف کے خلاف بات کی ہے، کیا اپنی حکومت کے دور میں بھی ایسے ہی کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بغیر تصدیق کے افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، ایسی کوئی تجویز کوئی زیر غور نہیں، فنانس ڈویژن نے جو جواب دیا ہے وہ واضح ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، کابینہ ڈویژن نے بھی واضح کیاہے کہ اگر کبھی اس حوالے سے کوئی بھی ترمیم ہوئی تو پارلیمان کے ذریعے ہی ہو گی، ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال ہے، اس میں کوئی ترمیم زیر غور نہیں، حکومت سول سروس ریفارمز لائے گی، اس میں سول سرونٹس کو سہولتیں بھی دے گی، ہمیں افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔ قبل ازیں توجہ مبذول نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر محمد کبیر شاہی نے کہا کہ سرکاری ملازمین پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، کم سے کم تنخواہ ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہونی چاہیے۔ سینیٹر اے رحمن ملک نے توجہ مبذول نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اگر ریٹائرمنٹ کی عمر اور پنشن کم کرے گی تو قانونی لحاظ سے وہ ایسا نہیں کر سکتی، یہ فیصلہ چیلنج ہو گا، 55 سال کی عمر میں کسی بھی شخص پر ذمہ داریوں کا بہت بوجھ ہوتا ہے، ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرنے کے سماجی مسائل بھی پیدا ہوں گے، اگر کوئی ایسی تجویز ہے تو اسے خم کر دیا جائے۔








