ریڈیو پاکستان مالی خود انحصاری کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کر رہا ہے، ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان سعید احمد شیخ کا 43 ویں مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس کے افسران سے خطاب

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل سعید احمد شیخ نے انفارمیشن سروس اکیڈمی اسلام آباد میں انفارمیشن گروپ کے 43ویں مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس کے افسران کو قومی نشریاتی ادارے کی بحالی کے لیے ترتیب دیئے گئے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انفارمیشن گروپ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ریڈیو پاکستان مالی خود انحصاری کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کر …

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل سعید احمد شیخ نے انفارمیشن سروس اکیڈمی اسلام آباد میں انفارمیشن گروپ کے 43ویں مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس کے افسران کو قومی نشریاتی ادارے کی بحالی کے لیے ترتیب دیئے گئے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انفارمیشن گروپ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ریڈیو پاکستان مالی خود انحصاری کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کر رہا ہے۔ ہر ریڈیو اسٹیشن کے لیے ایک ارب روپے سے زائد اشتہاری آمدن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ادارے کی غیر استعمال شدہ املاک اور زمینوں کو تجارتی بنیادوں پر بروئے کار لانے کے لئے اقدامات جاری ہیں جن میں لانڈھی، کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) کے تحت پری فیبریکیٹڈ ویئر ہاؤسز کا قیام بھی شامل ہے۔ انتظامی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے سعید احمد شیخ نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان پہلا سرکاری نشریاتی ادارہ ہے جس نے اپنی نوعیت کا مقامی سطح پر تیار کردہ ڈیجیٹل پنشن مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس نظام کا مقصد جعلی پنشنرز کا خاتمہ اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی بچت مہم اور داخلی انجینئرنگ صلاحیتوں کے مؤثر استعمال سے ادارے کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے ادارے کی تکنیکی بہتری اور نشریاتی دائرہ کار میں وسعت پر بھی زور دیا۔ ان اقدامات میں انٹینا ری الائنمنٹ، مری ریپیٹر اسٹیشن کو ایف ایم کمپلیکس میں تبدیل کرنا اور 300 کلو واٹ شمسی توانائی کا گرِڈ اسٹیشن نصب کرنا شامل ہیں جن کے ذریعے نشریاتی معیار اور توانائی بچت کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ضمن میں سعید احمد شیخ نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان اب نہ صرف دنیا بھر میں براہِ راست نشریات کر رہا ہے بلکہ فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر بھی سرگرم ہے۔

ساتھ ہی ساتھ ملک بھر میں پوڈکاسٹ سٹوڈیوز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ نوجوان اور ڈیجیٹل نسل سے مؤثر رابطہ قائم کیا جا سکے۔ آخر میں انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ریڈیو پاکستان ایک ایسا قومی ادارہ بن کر ابھرے گا جو مالی طور پر مستحکم، انتظامی طور پر مؤثر اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا۔