ریڈ کریسنٹ سوسائٹی میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں ، ابرار الحق

اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے چیئرمین معروف گلوکار و سماجی شخصیت ابرار الحق نے کہا ہے کہ انہوں نے ادارے میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں اور فوری طور پہ دو نئے شعبہ جات تشکیل دیئے جس میں ریسورس موبلائزیشن اور سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ شامل ہیں، ریسورس موبلائزیشن کے ذریعہ دو ماہ میں 15 کروڑ روپے اکٹھے کئے ، آگہی مہم کے ذریعہ …

اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے چیئرمین معروف گلوکار و سماجی شخصیت ابرار الحق نے کہا ہے کہ انہوں نے ادارے میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں اور فوری طور پہ دو نئے شعبہ جات تشکیل دیئے جس میں ریسورس موبلائزیشن اور سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ شامل ہیں، ریسورس موبلائزیشن کے ذریعہ دو ماہ میں 15 کروڑ روپے اکٹھے کئے ، آگہی مہم کے ذریعہ خون کا عطیہ دینے والوں کی تعداد کو دوگنا کیا۔ اے پی پی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں ابرار الحق نے بتایا کہ انہوں نے محافظ ٹیم بنائی ہے جس نے محافظ ایپ متعارف کرائی جس کے تحت 5 لاکھ لوگوں تک رسائی حاصل کی۔ جن میں بڑی تعداد میںمخیر حضرات کی مدد سے لوگوں میں کھانا تقسیم کیا گیا اور انہیں کورونا سے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کی گئیں اور اس مہلک وباء سے بچاو کے لئے حفاظتی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک بھر سے اعداد و شمار اکٹھے کئے گئے، ہاٹ سپاٹ ایریاز کی نشاہدہی کی گئی یہی وہ علاقے تھے جن کو بعد میں لاک ڈاون کرنا پڑا۔ ان علاقوں میں لوگوں کو ہر ممکن امداد فراہم کی۔10 ہزار خاندانوں کو 48 ہزار فی خاندان دیا جائے گا جس کے پہلے مرحلے میں 2500 خاندانوں کو دے رہے ہیں۔ ان میں معذور افراد، مزدور، فنکار، پیرامیڈیکل سٹاف، صحافی اور ہوٹلوں اور شادی ہالز میں کام کرنے والے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 15 دن میں کورونا کے لئے مخصوص ہسپتال بنایا، چینی ڈاکٹرز کی مشاورت سے بنایا جانے والا ہسپتال ٹو پیسجز تھری زون فارمولا کے تحت بنایا گیا جس میں 120 بیڈ ہیں جن میں 15 وینٹیلیٹرز، 90 آکسیجن بیڈ ہیں، ہسپتال میں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، جن کے گھر راشن نہیں ہے ان کو راشن بھی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ یہاں مریضوں کا نفسیاتی علا ج بھی کیا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے اپنی وزراء کے ساتھ ہسپتال کا دورہ کیا اس کوشش کو بے حد سراہا۔ اے پی پی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں ابرار الحق نے بتایا کہ جب انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تو آرگنائزیشن کی سپورٹ کم ہو رہی تھی۔ اور 80 اضلاع سے کم ہو کر 40 تک رہ گئی تھی ، ہم دوبارہ اس کو 88 تک لے گئے ہیں۔ ہم نے صوبائی سطح پر سب کے تحفظات دور کئے۔گلوبل ٹرینڈز کے مطابق اپنی آرگنائزیشن کو ایک مرتبہ پھر فعال کیا۔ اس میں اصلاحات کیں۔ ملازمین کو اعتماد میں لیا، ان کی حوصلہ افزائی کی۔ فیصلہ سازی کے لئے مینجنگ بورڈ ہے لیکن ادارے کو مزید فعال بنانے کے لئے بورڈ آف ایڈوائزری تشکیل دیا جس میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین کو شامل کیا۔ 2 لاکھ سے زائد این 95 ماسک دئیے گئے۔15 ہزار افراد کو راشن فراہم کیا۔اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہینڈ واشنگ سٹیشنز قائم کئے۔اللہ تعالیٰ کی مدد سے یہ کام ممکن ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور وزیراعظم عمران خان سے متاثر ہو کر سماجی خدمت کے شعبے میں آیا اور نارووال کے ایک بڑے ہسپتال اور میڈیکل کالج کے قیام کے بعد کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہلال احمر پاکستان کا چیئرمین نامزد کیا اور چار ماہ کے مختصر عرصے میں انہوں نے ادارے میں انقلابی اقدامات کئے ہیں۔