وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جو ملک کی بیرونی مالی پوزیشن میں نمایاں بہتری کی عکاسی ہے۔
زرمبادلہ کے بلندترین ذخائر ملک کی بیرونی مالی پوزیشن میں نمایاں بہتری کی عکاسی ہے،خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جو ملک کی بیرونی مالی پوزیشن میں نمایاں بہتری کی عکاسی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خرم شہزاد نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 11 ستمبر 2026 کو 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ 23 ۔ 2022 کے مشکل حالات کے مقابلہ میں زرمبادلہ کی موجودہ سطح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ درآمدات کے لیے دستیاب زرمبادلہ کا کور بھی بحران کے وقت صرف دو ہفتوں سے بڑھ کر اب تین ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔
خرم شہزاد نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ محض ذخائر کی بحالی نہیں بلکہ پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن اور معاشی استحکام میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے اور عالمی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے، کرنٹ اکاونٹ کی بہتر صورتحال اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک پاکستان کی دوبارہ رسائی کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ 23 ۔ 2022 کی شدید بیرونی مالی مشکلات سے نکل کر موجودہ دور میں ریکارڈ زرمبادلہ ذخائر اور تین ماہ سے زائد درآمدی کور تک پہنچنے سے پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی ہورہی ہے،یہ پیش رفت بحران سے استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی، بیرونی مالی مضبوطی سے اعتماد، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کی جانب سفر ہے۔







