پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور خودمختار بحالی سے وسیع تر سرمایہ کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے، وزیرِ خزانہ محمداورنگزیب کا لندن میں خطاب

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور خودمختار بحالی سے وسیع تر سرمایہ کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور خودمختار بحالی سے وسیع تر سرمایہ کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے،مالیاتی و بیرونی شعبے کے استحکام، مہنگائی، قرضوں کے انتظام اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، ایس ایم ایز، زراعت اور ہائوسنگ کے شعبوں میں مالی وسائل تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات لندن میں جے پی مورگن کی ایمرجنگ اینڈ فرنٹیئر مارکیٹس مواقع کانفرنس کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی،وزیرخزانہ نے پاکستان کی معیشت کو درپیش بیرونی معاشی دباو، کلی معیشت کے استحکام اور مستقبل کی معاشی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی اورمعاشی استحکام کے حصول میں پاکستان کی پیش رفت اور سرمایہ کاری، سرمایہ کی تشکیل، برآمدات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب حکومت کی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے معروف عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور بڑے منی مینیجرز کی جانب سے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

مجموعی طور پر 55 عالمی سرمایہ کاری فنڈز نے پاکستانی وفد کے ساتھ متعدد ون آن ون ملاقاتوں اور ایک مکمل سرمایہ کار سیشن میں شرکت کی۔ سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے پیش نظر تمام ملاقاتیں ایک ہی روز میں منعقد کی گئیں، جن میں پاکستان کی مستقبل کی معاشی سمت، سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری معاشی تبدیلی کے پائیدار ہونے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جے پی مورگن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور کنٹری ہیڈ امین خواجہ بھی ملاقاتوں کے دوران موجود تھے۔وزیرخزانہ نے حکومت کی معاشی سمت واضح کرتے ہوئے چھ اہم ترجیحات پر روشنی ڈالی جن میں معاشی استحکام کو پائیدار بناناومالیاتی و بیرونی معاشی دبائو کو برداشت کرنے کی صلاحیت مضبوط کرنا، استحکام سے پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیش رفت، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنا، امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی، عوام اور معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے مالی وسائل تک رسائی میں توسیع، اور ڈیجیٹلائزیشن، بلاک چین اور ویب 3.0 سمیت نئی معیشت کے لیے پاکستان کو موثر طور پر تیار کرنا شامل ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کی بنیادی ترجیح معاشی استحکام کی بحالی اور معاشی ساکھ کی تعمیر نو تھی ،مالیاتی استحکام، بیرونی شعبے کے استحکام، مہنگائی، قرضوں کے انتظام اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد تک بحال ہوئی، جبکہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک کم ہوا، جو کئی برسوں کی کم ترین سطح ہے، جبکہ ملک نے مسلسل تیسرے سال پرائمری سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اب مقصد یہ ہے کہ معاشی استحکام کو پائیدار بنایا جائے اور اسے ترقی کے ایک ایسے مختلف ماڈل کی بنیاد بنایا جائے جو قلیل مدتی کھپت پر مبنی توسیع کے بجائے تیزی سے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، برآمدات اور نجی شعبے کی سرگرمیوں سے تقویت حاصل کرے۔

پاکستان کے خودمختار قرضوں کی پوزیشن میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے فعال انتظام وانصرام کے ذریعے ملکی قرضوں کی مدت میں اضافہ اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی کی ہے ، مالیاتی استحکام کے ساتھ یہ اقدامات مجموعی خودمختار مالیاتی پوزیشن کو مضبوط بنا رہے ہیں اور پاکستان کے معاشی مستقبل پر اعتماد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے متنوع مالیاتی ذرائع اور سرمایہ کاروں کے مختلف طبقات کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے پاکستان کے پہلے ایوارڈ یافتہ پانڈا بانڈ اور اس کے بعد ریکارڈ 3 ارب امریکی ڈالر کی دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ ٹرانزیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں اجرا میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور طلب سامنے آئی ہمارامقصد محض فنانسنگ حاصل کرنا نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ تک مستقل رسائی برقرار رکھنا، سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، قرضوں کی مدت میں اضافہ اور بتدریج بہتر شرائط پر فنانسنگ حاصل کرنا ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں وسیع تر سرمایہ تشکیل کے نمایاں امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایکویٹی اور کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹس کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کی شرکت کو وسیع کرنے، آئی پی اوز کی سرگرمیوں میں اضافہ اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے غیر ملکی سرمایہ کی زیادہ شمولیت کے ساتھ اسلامی فنانس اورسکوک مارکیٹس کی ترقی طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ذرائع کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے نجی سرمائے کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرنے اور تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کے کردار کو محدود کرنے کے لیے جاری اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ نجکاری کو ریاست کے کردار کی وسیع تر تنظیمِ نو کے حصے کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں پی آئی اے، ڈسکوز، مالیاتی اداروں، دیگر سرکاری اداروں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز کے شعبوں میں پیش رفت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک بھی تشکیل دے رہی ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی سرمائے کو کاروباری اداروں اور منصوبوں کی جانب راغب کرنا اور پرائیویٹ ایکویٹی و وینچر کیپیٹل کے لیے سازگار ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہائوسنگ کے شعبوں میں بھی مالی وسائل تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ کلی معیشت کے استحکام کو زیادہ سے زیادہ قرضوں، سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے اگلے مرحلے کی مالی ضروریات صرف سرکاری بیلنس شیٹس سے پوری نہیں کی جا سکتیں، لہذا نجی سرمائے کو مستقبل میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی بڑی داخلی مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت اور تزویراتی جغرافیائی محلِ وقوع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سرمایہ کاری کی کشش اصلاحات اور بڑے پیمانے پر موجود معاشی مواقع کے امتزاج پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس انتظامیہ، ٹیرف میں معقولیت، توانائی، سرکاری اداروں اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور معیشت کو برآمدات، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، معدنیات، زراعت اور ویلیو ایڈڈ خدمات کی جانب منتقل کرنا ہے۔بیرونی معاشی روابط کے حوالے سے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان روایتی طور پر امداد پر انحصار سے آگے بڑھتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط روابط کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اشیا اور خدمات کی تجارت کو مزید فروغ دینے اور باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعلقات کے ذریعے طویل مدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بالخصوص بلاک چین اور ویب 3.0 سے فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اور تیزی سے پھیلتا ہوا ڈیجیٹل ایکو سسٹم عالمی معیشت کے نئے شعبوں میں موثر شرکت اور سرمایہ کاری و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ کاری کی کہانی اب صرف فوری معاشی دبائو پر قابو پانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں اصلاحات اور معاشی ری ریٹنگ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کے استحکام اور اصلاحات کے عمل کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملکی و بین الاقوامی نجی سرمائے کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس موقع پرگورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاکستان کی بیرونی پوزیشن میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، ذخائر میں ہونے والے اضافے کے معیار، ترسیلاتِ زر میں بڑھتے ہوئے رجحان اور بیرونی شعبے کے بنیادی اشاریوں میں بہتری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکانٹ کے ذریعے آنے والی رقوم کے بڑھتے ہوئے کردار، بیرونی شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں مضبوطی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے میکرو اکنامک استحکام میں بہتری آئی ہے اور پائیدار ترقی و سرمایہ کاری کے لیے بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔