وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سائبر کرائم کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آن لائن مالیاتی فراڈ، جعلی اکائونٹس، ڈیجیٹل بلیک میلنگ، ہراسانی اور منظم سائبر کرائم نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔یہ ہدایت انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے )سینٹرل زون ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر سائبر کرائمز کے خلاف جاری آپریشنز …
سائبر کرائم کا مقابلہ جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت سے کیا جا سکتا ہے،وفاقی وزیر داخلہ

مزید خبریں
لاہور۔27ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سائبر کرائم کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آن لائن مالیاتی فراڈ، جعلی اکائونٹس، ڈیجیٹل بلیک میلنگ، ہراسانی اور منظم سائبر کرائم نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔یہ ہدایت انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے )سینٹرل زون ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر سائبر کرائمز کے خلاف جاری آپریشنز اور تحقیقات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔
انہوں نے شکایات سیل، فرانزک لیب اور انویسٹی گیشن ونگ کا معائنہ کیا اور شہریوں کی شکایات کے اندراج سے لے کر تفتیش اور ملزمان کے خلاف کارروائی تک پورے نظام کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں آن لائن مالیاتی فراڈ، ہراسانی اور منظم سائبر کرائم نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سائبر کرائم کرنے والا جہاں بھی ہو اسے قانون کی گرفت میں لانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مالیاتی فراڈ کی شکایت موصول ہوتے ہی فوری رسپانس کا نظام موثر بنایا جائے تاکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ بروقت رابطے کے ذریعے متاثرہ شہری کی رقم کو محفوظ بنانے اور ملزمان تک پہنچنے کے امکانات بڑھائے جا سکیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ شہری کو شکایت درج کرانے کے بعد مہینوں انتظار نہیں کرنا چاہیے، ہر شکایت پر بروقت پیش رفت نظر آنی چاہیے۔ انہوں نے زیر التوا مقدمات اور شکایات کا کیس ٹو کیس جائزہ لینے اور غیر ضروری تاخیر ختم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ڈیجیٹل فرانزک کی استعداد بڑھانے، جدید فرانزک ٹولز کے استعمال اور تفتیشی افسران کی خصوصی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سائبر کرائم کے نئے طریقوں کا مقابلہ روایتی تفتیش سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت سے کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ این سی سی آئی اے کو حقیقی معنوں میں پاکستان کی سائبر پولیس بنانا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کو ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے شہریوں کے ڈیٹا، پرائیویسی اور مالی مفادات کے تحفظ کو این سی سی آئی اے کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے ادارے کو جدید ٹیکنالوجی، ضروری وسائل اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے خواتین اور بچوں کودرپیش آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل استحصال سے متعلق شکایات کو خصوصی ترجیح دینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے سائبر کرائم سے بچائو کے لیے عوامی آگاہی مہم موثر بنانے اور شہریوں کو آن لائن فراڈ کے نئے طریقوں سے بروقت آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس موقع پر ڈی جی این سی سی آئی اے نے وفاقی وزیر داخلہ کو سینٹرل زون کی کارکردگی، زیر تفتیش مقدمات، سائبر فراڈ کے رجحانات اور جاری کارروائیوں بارے بریفنگ دی۔ اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔







