سابق کپتان محمد یوسف کا پی سی بی کی دعوت پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ
سابق کپتان محمد یوسف کا پی سی بی کی دعوت پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں اور سہولیات کا جائزہ

مزید خبریں
لاہور۔16اکتوبر (اے پی پی):سابق ٹیسٹ کپتان محمد یوسف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی دعوت پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں اور کھلاڑیوں کے لئے فراہم کی جانے والی جدید سہولیات کا جائزہ لیا۔محمد یوسف نے ڈیڑھ سال بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مثبت تبدیلیاں دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کے لئے انفراسٹرکچر اور جدید سہولیات کی فراہمی پر بہترین کام ہو رہا ہے۔محمد یوسف نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لئے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کے ساتھ ڈیڑھ سال کام کیا اور اس دوران دیکھا کہ وہ کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔انکی بھرپور معاونت سے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے اور وہ ہر سطح کے کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔سابق ٹیسٹ کپتان نے عاقب جاوید اور ان کی ٹیم کے گراس روٹ کرکٹ کے لئے منصوبے کو بھی بہترین قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ انڈر 15، انڈر 17،انڈر 19 اور شاہینز پروگرامز مستقبل میں قومی ٹیم کے لئے بہترین ٹیلنٹ تیار کریں گے۔
سیالکوٹ اکیڈمی میں 30 انڈر15 کھلاڑیوں کی 240 روزہ تربیت کا منصوبہ قابلِ تعریف ہے،کیونکہ نوجوان کھلاڑیوں کی تکنیکی اور ذہنی تربیت مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لئے سود مند ثابت ہوگی۔محمد یوسف نے کہا کہ گراس روٹ کرکٹ پر مسلسل توجہ دے کر پاکستان کرکٹ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ایل سی سی اے گراونڈ میں جدید ڈریسنگ رومز اور دیگر سہولیات کی تعمیر خوش آئند ہے،جبکہ بائیو مکینکس لیب کی اپ گریڈیشن سے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے انڈر19 ٹیم کے دور انگلینڈ کو پی سی بی کا بہترین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان ٹیموں کو انگلینڈ،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں زیادہ سے زیادہ کرکٹ کھیلنے کے مواقع ملنے چاہییں۔سری لنکا کی انڈر17 ٹیم کو پاکستان مدعو کرنا بھی ایک مثبت قدم ہے،جس سے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔محمد یوسف کے مطابق نوجوان بیٹرز کی تکنیک بہتر بنانے کے لئے غیر ملکی بیٹنگ کوچ کی خدمات حاصل کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
بیٹرز کی تکنیک،شاٹ سلیکشن اور دبائو میں کھیلنے کی صلاحیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں مختلف کنڈیشنز کی پچز کی تیاری کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کے لئےبہتر انداز میں تیار کرے گی۔ایل سی سی اے گراونڈ میں بائونس،سوئنگ اور اسپن کے لئےمختلف نوعیت کی پچز تیار کرنا بہترین اقدام ہے۔جدید بولنگ مشینوں اور ویڈیو اینالیسز کی مدد سے کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔سابق ٹیسٹ کپتان نے زور دیا کہ کھلاڑیوں کو پی سی بی کی جانب سے فراہم کردہ جدید سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ ان کی انفرادی کارکردگی بہتر ہو اور پاکستان کرکٹ کا مستقبل مزید مضبوط بنایا جا سکے۔








