سال2025ء کے آخری تین ماہ میں دہشتگردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی اعتزاز گورایا کے ہمراہ کانفرنس

کوئٹہ۔ 08 جنوری (اے پی پی):ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)اعتزاز گورایہ نے کہاہے کہ گزشتہ سال انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 730دہشتگرد مارے گئے ہیں ،کالعدم تنظیمیں کم عمر نوجوانوں کو اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں ۔سال2025ء کے آخری تین ماہ میں دہشتگردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں پریس …

کوئٹہ۔ 08 جنوری (اے پی پی):ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)اعتزاز گورایہ نے کہاہے کہ گزشتہ سال انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 730دہشتگرد مارے گئے ہیں ،کالعدم تنظیمیں کم عمر نوجوانوں کو اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں ۔سال2025ء کے آخری تین ماہ میں دہشتگردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حمزہ شفقات نے بتایاکہ گزشتہ برس بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 730سے زائد دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کارروائیوں میں 400 سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔

حمزہ شفقات نے کہا کہ 2025 کے آخری تین ماہ میں دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ،سال 2024کے آخری تین مہینوں کا گراف دیکھیں تو وہ اوپر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی کے تحت ایک نیا ادارہ صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھیریٹ اسسمنٹ سینٹر(فیفٹیک )قائم کیا گیا ہے، جسے مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں فعال کر دیا جائے گا،بلوچستان کا ریڈ نوٹس سیل فعال ہے جس میں مختلف ادارے شامل ہیں ،100سے زائد ایسے لوگ ہیں جو ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشتگردی کو طول دینے ،پروپیگنڈہ ودیگر میں ملوث ہیں ،ان ملزمان کالسٹ انٹرپول کو دینے کیلئے عدالتی احکامات ضروری ہے ،حکومت کسی کا نام نہیں دے سکتی پہلے عدالتی کاروائی کریگی ،عدالتی حکم کے بعد وزارت داخلہ کے ذریعے انٹروپول کو بھیجی جاسکتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ سی ٹی ڈی کو مزیدانفورس کرنے کیلئے مزید فنڈز فراہم کی جارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پورے صوبے کو اب اے ایریا قرار دے دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس اداروں نے ایک بڑا آپریشن کیا جس میں ایک دہشتگرد کو گرفتارکرلیاگیا ،وہ دہشتگرد سرکار کی تنخواہ بھی لیتا رہالیکن وہ کالعدم تنظیموں کے ہاتھوں چڑھ کر ریاست کے خلاف استعمال ہوا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ایک دہشتگرد ساجد احمد عرف شاویز کو گرفتار کیا، جس نے اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ تربت یونیورسٹی میں استاد بھی رہ چکا ہے۔

گرفتار دہشت گرد کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ ساجد تربت کا رہائشی اور کالعدم تنظیم سے وابستہ تھا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ساجد تربت میں کالعدم تنظیم کے لیے ریکی اور سہولت کاری میں ملوث تھا اور افغانستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر دوستین سے بھی رابطے میں رہا۔ انہوں نے کہا کہ پکڑا گیا اسلحہ پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا جبکہ اسلحہ ایران سے سمگلنگ کے ذریعے پاکستان لایا گیا۔اعتزاز گورایہ کے مطابق ساجد کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بھی رہا اور وہ نوجوانوں کو کالعدم تنظیموں میں بھرتی کرنے میں ملوث تھا۔

انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے افراد بھی شدت پسندی کی راہ اختیار کر رہے ہیں اور بی ایس او و بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو مسلح تنظیموں میں شامل کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خاران سے تعلق رکھنے والا 18 سالہ سرفراز، جو بی وائے سی میں شامل تھا، گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ جہانزیب عرف مہربان کو بھی حراست میں لیا گیا۔ جہانزیب بساکھ بروہی کے ساتھ منسلک رہا، جو نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں شدت پسندی کی طرف لے جاتا رہا۔ ایک اور 18 سالہ نوجوان بہزل کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ دہشت گرد کم عمر نوجوانوں کو اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں اور تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ نوجوان دہشت گردوں کے لیے پیسے اور ادویات کی رسد کا کام بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کی سرجیکل ادویات بھی دہشت گردوں تک پہنچ رہی ہیں۔اعتزاز گورایہ نے کہا کہ گرفتار نوجوانوں کی اصلاح اور بحالی پر کام کیا جائے گا تاکہ انہیں دوبارہ کارآمد شہری بنایا جا سکے۔