عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ سامانِ جہیز کا معاملہ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اسے بیک وقت دو مختلف فورمز پر نہیں چلایا جا سکتا،جہیز میں دی گئی گاڑی کو امانت قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ امانت میں خیانت کی دفعہ لگانے کے لیے قانونی تقاضوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔
سامانِ جہیز کا معاملہ بیک وقت دو مختلف فورمز پر نہیں چلایا جا سکتا،عدالت عالیہ
لاہور۔5جون (اے پی پی):عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ سامانِ جہیز کا معاملہ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اسے بیک وقت دو مختلف فورمز پر نہیں چلایا جا سکتا،جہیز میں دی گئی گاڑی کو امانت قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ امانت میں خیانت کی دفعہ لگانے کے لیے قانونی تقاضوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔جسٹس طارق محمود باجوہ نے ڈاکٹر عمیر ریاض کی عبوری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے خلاف فیملی کیس کے حقائق چھپا کر ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق فریقین میاں بیوی ہیں اور دونوں کے درمیان باہمی رنجش کے باعث دسمبر2024 سے فیملی کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔ فیملی کورٹ میں جمع کرائی گئی سامانِ جہیز کی فہرست میں مذکورہ گاڑی بھی شامل ہے لہذا قانون کے مطابق اس معاملے کا فیصلہ فیملی کورٹ نے کرنا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دلہن کو شادی کے وقت یا بعد میں والدین کی جانب سے دیا جانے والا سامان جہیز شمار ہوتا ہے، تاہم وراثت میں ملنے والی جائیداد یا زمین جہیز میں شامل نہیں ہوتی۔ فیصلے کے مطابق شادی کے بعد درخواست گزار کی اہلیہ کے والدین نے 08 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی خرید کر دی تھی۔ عدالت نے آبزرو کیا کہ درج ایف آئی آر میں گاڑی کو امانت قرار دینے کی بنیاد واضح نہیں اور درخواست گزار نے اپنے تحریری بیان میں زیر التوا فیملی مقدمے کا ذکر بھی کیا تھا۔ مزید برآں دورانِ تفتیش گاڑی کی فروخت کی رسید بھی پولیس نے حاصل کر لی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے تفتیش میں تعاون کیا، شامل تفتیش ہوئے اور عبوری ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا۔ ملزم ٹرائل کورٹ کے اطمینان کے لیے 2 لاکھ روپے کے مچلکے بھی جمع کرا چکا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ عبوری ضمانت کے مرحلے پر مقدمے کے حقائق کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور موجودہ صورتحال میں درخواست گزار کی مزید گرفتاری ضروری نہیں بنتی، لہذا ڈاکٹر عمیر ریاض کی عبوری ضمانت کنفرم کی جاتی ہے۔









