سردیوں کی تعطیلات کے دوران سیاحوں کی شمالی علاقوں میں آمد، ملک کے بالائی حصوں میں برفباری متوقع

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے دلکش شمالی پہاڑی علاقے اور وادیاں نئے سال کی تقریبات کے موقع پر تازہ برفباری کی لپیٹ میں آنے کو تیار ہیں جو ہزاروں سیاحوں کے لیے یادگار تعطیلات کا حسین منظر پیش کریں گی۔سردیوں کی سکول تعطیلات سے فائدہ اٹھانے والے خاندان اور سال کے اختتام سے قبل اپنی باقی ماندہ سالانہ چھٹیاں استعمال کرنے والے ملازمت پیشہ افراد ملک بھر سے برفباری …

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے دلکش شمالی پہاڑی علاقے اور وادیاں نئے سال کی تقریبات کے موقع پر تازہ برفباری کی لپیٹ میں آنے کو تیار ہیں جو ہزاروں سیاحوں کے لیے یادگار تعطیلات کا حسین منظر پیش کریں گی۔سردیوں کی سکول تعطیلات سے فائدہ اٹھانے والے خاندان اور سال کے اختتام سے قبل اپنی باقی ماندہ سالانہ چھٹیاں استعمال کرنے والے ملازمت پیشہ افراد ملک بھر سے برفباری کا لطف اٹھانے اور 2026 کے استقبال کے لیے شمالی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق 30 دسمبر سے 2 جنوری 2026 تک ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ متوقع ہےجس سے مری، سوات، ہنزہ، ناران اور کشمیر کی وادیوں جیسے مشہور سیاحتی مقامات برف باری متوقع ہے۔

نیشنل ویدر فورکاسٹنگ سینٹر کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ 29 دسمبر کی رات سے ملک کے مغربی حصوں میں داخل ہونے کا امکان ہے جو 30 دسمبر سے شدت اختیار کرے گا۔ یہ موسمی نظام 31 دسمبر کو ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور 2 جنوری کی صبح تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔یہ موسم عین اس وقت متوقع ہے جب شمالی علاقوں میں سیاحت عروج پر ہوتی ہے اور ہوٹلوں و گیسٹ ہاؤسز میں مکمل بکنگ ہوتی ہےجہاں خاندان اور ملازمین سال کے آخری دن برف پوش پہاڑوں اور وادیوں میں گزارنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔بلوچستان اور سندھ میں 29 دسمبر کی رات سے 31 دسمبر تک کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب، قلات، بارکھان، سبی، لورالائی، موسیٰ خیل، تربت، گوادر، جیوانی، لسبیلہ، کیچ، آواران، چاغی، پنجگور، خضدار، واشک اور خاران میں بارش تیز ہواؤں اور پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے۔سندھ میں 30 دسمبر کو کراچی، حیدرآباد، دادو، جیکب آباد، کشمور، لاڑکانہ، ٹھٹھہ، بدین اور گردونواح میں ہلکی بارش یا بوندا باندی کا امکان ہے۔

خیبرپختونخوا، جہاں سوات، ناران اور کاغان جیسی مشہور وادیاں واقع ہیں وہاں بارش، تیز ہواؤں اور بالائی علاقوں میں معتدل سے شدید برفباری متوقع ہے۔ چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، وزیرستان، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، بنوں، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور کوہاٹ میں 30 دسمبر سے یکم جنوری تک وقفے وقفے سے بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی بارش اور برفباری متوقع ہے۔ گلگت بلتستان میں دیامر، استور ، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے اور شگر جبکہ کشمیر میں وادی نیلم، مظفرآباد، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی،سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں 30 دسمبر کی شام سے 2 جنوری کی صبح تک بارش اور برفباری کا امکان ہے۔پنجاب اور اسلام آباد میں مری اور گلیات میں 30 دسمبر کی رات سے 2 جنوری کی صبح تک بارش اور برفباری متوقع ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی، پوٹھوہار، سرگودھا، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، شیخوپورہ اور گجرات میں 31 دسمبر سے یکم جنوری تک بارش ہو سکتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی 31 دسمبر کو بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ برفباری کے باعث ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، اسکردو، مری، گلیات، وادی نیلم، باغ، پونچھ اور حویلی میں سڑکیں بند اور پھسلن پیدا ہو سکتی ہے۔ بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خدشہ بھی ہے۔سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ شدید موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گاڑیوں میں سنو چینز، گرم کپڑے اور ہنگامی سامان رکھیں۔

ایندھن مکمل رکھیں اور موسمی صورتحال سے باخبر رہیں۔ بچوں کے ساتھ سفر کرنے والے خاندان خصوصی احتیاط کریں۔مثبت پہلو یہ ہے کہ بارش کے باعث پنجاب اور بالائی سندھ میں دھند کی صورتحال میں کمی متوقع ہے تاہم دن کے درجہ حرارت میں مزید کمی ہو سکتی ہےجو سردیوں کی سیاحت کو مزید دلکش بنا دے گی۔سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اس قدرتی حسن سے لطف اٹھائیں مگر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے سرکاری موسمی اطلاعات اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔