سرکاری اداروں کے نقصانات کم ہو رہے ہیں، 300 فیصد اضافے کا دعویٰ گمراہ کن ،خرم شہزاد کا ایکس پر وضاحتی بیان

اسلام آباد۔14فروری (اے پی پی):وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اداروں (State-Owned Enterprises - SOEs) کے نقصانات میں 300 فیصد اضافے کے دعوے گمراہ کن ہیں کیونکہ مجموعی نقصانات میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ہفتہ کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ وفاقی سرکاری اداروں کے مجموعی سالانہ نقصانات گزشتہ دو مالی سالوں سے مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ …

اسلام آباد۔14فروری (اے پی پی):وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اداروں (State-Owned Enterprises – SOEs) کے نقصانات میں 300 فیصد اضافے کے دعوے گمراہ کن ہیں کیونکہ مجموعی نقصانات میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ہفتہ کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ وفاقی سرکاری اداروں کے مجموعی سالانہ نقصانات گزشتہ دو مالی سالوں سے مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ یہ نقصانات مالی سال 2023 میں 905 ارب روپے تھے جو مالی سال 2024 میں کم ہو کر 851 ارب روپے اور مالی سال 2025 میں مزید کم ہو کر 832 ارب روپے رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ نقصانات اب بھی نمایاں ہیں اور اصلاحات کی ضرورت ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ رجحان اضافہ نہیں بلکہ کمی کی جانب ہے۔انہوں نے کہا کہ بار بار دہرایا جانے والا ’’300 فیصد اضافہ‘‘دراصل خسارہ کرنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ خالص پورٹ فولیو نتیجے سے متعلق ہےجس میں منافع بخش اداروں کے منافع اور خسارہ کرنے والے اداروں کے نقصانات کو یکجا کیا جاتا ہے۔مالی سال 2025 میں بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے منافع میں کمی آئی جس سے منافع کا بفر کم ہوا اور خالص پورٹ فولیو خسارہ حسابی طور پر بڑھ گیاحالانکہ خسارہ کرنے والے اداروں کے حقیقی نقصانات میں بہتری آئی۔

انہوں نے اسے آپریشنل نقصانات میں اضافے کے بجائے محض حسابی مجموعہ (اکاؤنٹنگ ایگریگیشن) کا اثر قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آئل اینڈ گیس کے سرکاری ادارے عموماً تیل کی بلند قیمتوں کے ماحول میں زیادہ منافع کماتے ہیں۔ جب بین الاقوامی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ان کے منافع میں بھی کمی آتی ہے۔مالی سال 2025 میں کم تیل قیمتوں نے منافع بخش اداروں کی آمدن کو متاثر کیاتاہم یہ مارکیٹ پر مبنی عنصر تھا، نہ کہ ساختی نااہلی میں اضافہ۔خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت ساختی حل کے طور پر نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور اصلاحات پر پہلے ہی عمل درآمد جاری ہے۔انہوں نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کو دیرینہ مالی بوجھ کے خاتمے کے طور پر، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری، پاسکو کے تدریجی خاتمے کے عمل اور پی آئی اے میں اکثریتی حصص کی فروخت کو اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور نجکاری کا عمل بھی فعال طور پر جاری ہے۔