سرکاری شعبے کی جامعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسرز کیلئے دو ہفتے پر مشتمل فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کامیابی سے مکمل

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کے تحت نیشنل اکیڈمی آف ہائیر ایجوکیشن (ناہی) نے سرکاری شعبے کی جامعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے لیے دو ہفتے پر مشتمل فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیا۔ یہ تربیتی پروگرام ایچ ای سی کے دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ افتتاحی خطاب میں ناہی کے ڈائریکٹر سلیمان احمد نے مصنوعی ذہانت اور بدلتے عالمی رجحانات …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کے تحت نیشنل اکیڈمی آف ہائیر ایجوکیشن (ناہی) نے سرکاری شعبے کی جامعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے لیے دو ہفتے پر مشتمل فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیا۔ یہ تربیتی پروگرام ایچ ای سی کے دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ افتتاحی خطاب میں ناہی کے ڈائریکٹر سلیمان احمد نے مصنوعی ذہانت اور بدلتے عالمی رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی ملازمتیں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

اب صرف تکنیکی مہارت کافی نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، جذباتی ذہانت اور مطابقت پذیری بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی تعلیم کو اس قابل بنانا ہوگا کہ طلبہ نہ صرف نوکری کے لیے تیار ہوں بلکہ وہ عمر بھر سیکھنے، قیادت اور عالمی شہریت کے لیے بھی تیار ہوں۔تقریب کے مہمان خصوصی اور ناہی کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے پروگرام کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ تربیت کے دوران تدریس، تحقیق، انتظامی امور، تنظیمی روابط، ٹیکنالوجی کا استعمال، مالی نظم و نسق اور منصوبہ بندی جیسے موضوعات شامل تھے۔ ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے اس بات پر زور دیا کہ شرکا اپنے اداروں میں اس تربیت کے اثرات کو منتقل کریں تاکہ مجموعی تعلیمی معیار میں بہتری آئے۔ انہوں نے ایچ ای سی کی تعلیمی ترقی کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

یہ پروگرام اقوام متحدہ کے کئی پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کی تکمیل میں معاون ثابت ہو رہا ہے جن میں معیاری تعلیم، صنفی مساوات، مہذب روزگار، عدم مساوات میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا اور موثر اداروں کا قیام شامل ہے۔ آخر میں شرکا میں اسناد تقسیم کی گئیں اور انہوں نے پروگرام کو مفید اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔