اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کے ذاتی سروس اور پنشن سے متعلق معاملات وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، لہٰذا اس نوعیت کی شکایات پر دیا گیا حکم قانوناً برقرار نہیں رہ سکتا۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ جس …
سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کے ذاتی سروس اور پنشن سے متعلق معاملات وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کے ذاتی سروس اور پنشن سے متعلق معاملات وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، لہٰذا اس نوعیت کی شکایات پر دیا گیا حکم قانوناً برقرار نہیں رہ سکتا۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ جس میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے ،نے پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت کے مطابق درخواست گزار غلام عباس نے اپنی پنشن اور دیگر مراعات کے معاملے پر ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا۔ وفاقی محتسب نے کمپنی کو پنشن معاملات طے کرنے کی ہدایت جاری کی تاہم بعد ازاں کمپنی کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا جہاں وفاقی محتسب اور صدرِ مملکت کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی محتسب کا قیام بدانتظامی کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے عمل میں لایا گیا ہے تاہم 1983 کے صدارتی آرڈر کے آرٹیکل 9(2) کے تحت کسی سرکاری ملازم یا سابق ملازم کے ذاتی سروس معاملات وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار سے خارج ہیں۔
غلام عباس کا معاملہ چونکہ ان کی ذاتی پنشن اور سروس سے متعلق تھا، اس لئے وفاقی محتسب کو یہ شکایت سننے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی فورم قانوناً کسی معاملے کا مجاز نہ ہو تو فریقین کی رضامندی یا یقین دہانی سے اسے اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔
دائرہ اختیار قانون سے پیدا ہوتا ہے، اسے باہمی رضامندی سے نہ تو بڑھایا جا سکتا ہے اور نہ ہی درست قرار دیا جا سکتا ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگرچہ کمپنی کے افسر نے وفاقی محتسب کے سامنے پنشن مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم اس بنیاد پر غیر مجاز فورم کو اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
ایسا کوئی بھی حکمنامہ قانون کی نظر میں کالعدم تصور ہوگا۔وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی تاہم درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دعوے کے لئے متعلقہ مجاز فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔








