سستا اور فوری انصاف ہر شہری کا بنیادی حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سستا اور فوری انصاف ہر شہری کا بنیادی حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے، مؤثر متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے نظام سے تنازعات کے فوری اور کم لاگت حل کے راستے فراہم کئے جا سکتے ہیں۔سول، کمرشل اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے پانچ روزہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے …

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سستا اور فوری انصاف ہر شہری کا بنیادی حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے، مؤثر متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے نظام سے تنازعات کے فوری اور کم لاگت حل کے راستے فراہم کئے جا سکتے ہیں۔سول، کمرشل اور شریعہ سے ہم آہنگ ثالثی کے پانچ روزہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون اور شراکت داری پر معزز مہمانوں کے شکر گزار ہیں، پاکستان اپنے دوستوں کے تعاون سے بامقصد اور منفرد شراکت داری کو آگے بڑھائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عالمی شراکت داروں کے درمیان تعاون ایک نئے عالمی سفر کی بنیاد ہے۔

میڈی ایشن اور مصالحت کو صرف وکلا، ججز اور سرکاری افسران تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس کے دائرہ کار کو معاشرے کے مختلف شعبوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیمبرز، مختلف اداروں، سرکاری افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو تربیتی پروگرامز کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سول قانون کے ساتھ شرعی اصولوں اور اسلامی تصورِ مصالحت پر مبنی تربیتی پروگرام تشکیل دیا گیا، جو میڈی ایشن کے حوالے سے وزارتِ قانون کے وژن کی عملی شکل ہے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ مقدمہ بازی کے کلچر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، غیر ضروری اور غیر سنجیدہ مقدمہ بازی نے عدالتی نظام کو تقریباً 23 لاکھ زیرِ التوا مقدمات کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ غیر ضروری مقدمات سے عدالتوں کا قیمتی وقت اور قومی وسائل ضائع ہوتے ہیں، اس لئے غیر سنجیدہ اور بے بنیاد مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام کی ازسرنو اصلاح اور تجدید کی ضرورت ہے۔ دیوانی اور فوجداری دونوں شعبوں میں عدالتی اصلاحات پر کام جاری ہے جبکہ اس مقصد کے لئے قانون و انصاف کمیشن، سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کے لئے قانون سازی کے ذریعے اہم پیش رفت ہو چکی ہے، پورے ملک میں متبادل تنازعاتی حل اور مصالحت کے مؤثر نظام کو وسعت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل شروع کیا گیا میڈی ایشن کا مشن اب مزید وسعت اختیار کر رہا ہے، ملک کے مشائخ اور علماء کو بھی مصالحتی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ او آئی سی آربیٹریشن سینٹر اور پاکستان کے ادارے آئی ایم اے سی کے درمیان نیشنل ڈیزگنیشن سینٹر کا قیام اہم پیش رفت ہے، نیشنل ڈیزگنیشن سینٹر کا قیام پاکستان میں ثالثی کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہمارے آئین کا تقاضا اور ہمارے دین کا حکم ہے۔