سعودی عرب، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت ریاض کی قدیم القبلی مسجد کی تعمیر نو مکمل

ریاض۔23فروری (اے پی پی):سعودی عرب کے ولی عہد و و زیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے مملکت کی تاریخی مساجد کی تعمیر نو و بحالی کے منصوبے کے تحت دارالحکومت ریاض کے علاقے منفوحہ کی قدیم القبلی مسجد کی تعمیر نو مکمل کرلی گئی،اس کا مجموعی رقبہ 500 مربع میٹر ہے۔ سعودی خبررساں ادارے (ایس پی اے ) کے مطابق روایتی نجدی فن تعمیر کو اجاگر کرتے ہوئے مسجد …

ریاض۔23فروری (اے پی پی):سعودی عرب کے ولی عہد و و زیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے مملکت کی تاریخی مساجد کی تعمیر نو و بحالی کے منصوبے کے تحت دارالحکومت ریاض کے علاقے منفوحہ کی قدیم القبلی مسجد کی تعمیر نو مکمل کرلی گئی،اس کا مجموعی رقبہ 500 مربع میٹر ہے۔

سعودی خبررساں ادارے (ایس پی اے ) کے مطابق روایتی نجدی فن تعمیر کو اجاگر کرتے ہوئے مسجد کی قدیم شناخت کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ اصل شکل اور طرز تعمیر نمایاں رہے۔مسجد القبلی کا مجموعی رقبہ 500 مربع میٹر اور یہ منفوحہ کے مغرب اور گورنر پیلس کے جنوب مشرقی جانب واقع ہے، یہاں شہزادے اور دیگر اعلٰی شخصیات نماز ادا کرتی تھیں، اس کے مرکزی ہال اور صحن کے علاوہ زیریں منزل (تہہ خانے) میں خلوہ بھی بنایا گیا ہے جس کا رقبہ مرکزی ہال کے مساوی ہے۔

عمارت میں جنوبی اور شمالی جانب چوکور کھڑکیاں رکھی گئی ہیں جن کا مقصد مسجد میں تازہ ہوا کی آمد و رفت کو یقینی بنانا تھا۔شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن کے عہد میں مسجد کی تعمیر عبداللہ بن مسعود نے کرائی تھی ۔مسجد میں 33 ستون تھے جو تین صفوں پر منقسم تھے، ہر صف میں شمال سے جنوب تک 11 ستون ہوتے تھے جن کا ایک سے دوسرے کا فاصلہ مساوی تھا،مسجد کی چھت کے لیے کھجور کے درخت کے تنوں اور چھالوں سے بنائی گئی تھی جبکہ عمارت کی شمالی سمت ایک مینار بھی موجود تھا۔

1993 میں مسجد میں ترقیاتی کام کیا گیا تھا، یہ مسجد منفوحہ کے قدیم علاقے کی واحد مسجد باقی تھی جو مٹی سے بنی تھی اور اس کا شمار علاقے کی قدیم مساجد میں ہوتا تھا۔مسجد کی قدیم شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی تعمیرِ روایتی انداز میں کی گئی ہے جس کے لیے علاقے میں دستیاب تعمیراتی سامان کا استعمال کیا گیا۔