سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی ملیشیا کی دھمکیاں قابل مذمت،یہ علاقائی سلامتی و عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ ہیں،پاکستان

پاکستان نے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری مسلسل دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ، جہاز رانی کی آزادی کے لیے نقصان دہ، قواعد پر مبنی بحری نظام کے لیے چیلنج اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں۔

اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):پاکستان نے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری مسلسل دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ، جہاز رانی کی آزادی کے لیے نقصان دہ، قواعد پر مبنی بحری نظام کے لیے چیلنج اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جہاز رانی اور سعودی عرب کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بالخصوص ان اطلاعات پر گہری تشویش ہے جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ بیان میں پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے بحری اثاثوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حقِ دفاع کے تحت تمام ضروری اقدامات بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان بات چیت، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنے پختہ عزم پر قائم رہتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔