سعودی عرب علاقائی امن میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے،عہدیدار یورپی پارلیمنٹ

ریاض۔19جنوری (اے پی پی):یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی نائب سربراہ ہانا جلول مورو نے یورپی یونین کے لئے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر سعودی عرب کے کردار کو سراہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے مملکت کو ایک اہم بین الاقوامی عنصر قرار دیتے ہوئے علاقائی استحکام میں اس کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب ایک …

ریاض۔19جنوری (اے پی پی):یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی نائب سربراہ ہانا جلول مورو نے یورپی یونین کے لئے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر سعودی عرب کے کردار کو سراہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے مملکت کو ایک اہم بین الاقوامی عنصر قرار دیتے ہوئے علاقائی استحکام میں اس کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس نے ویژن 2030 کے ساتھ صرف گزشتہ پانچ چھے سالوں میں یہ ظاہر کیا ہے کہ اس میں متأثر کن تبدیلی آئی ہے۔ اس کے پاس خواتین کی بڑی افرادی قوت ہے، نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح بہت کم ہے اور اس کی نمو بہت تیز ہے۔

ریاض میں فیوچر منرلز فورم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین امن مذاکرات، شامی حکومت کی حمایت، شام کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی، لبنان میں حکومت کو مستحکم کرنا، غزہ میں امن کے فروغ اور جنگ بندی کے حوالے سے سعودی عرب اب بین الاقوامی میدان میں ایک اہم ملک بن رہا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں بین الاقوامی سطح پر اس کی کلیدی اہمیت ہے جو خطے میں استحکام کے لئے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو جانتا ہے کہ مشرق کو کیسے دیکھنا ہے اور مغرب کو کیسے۔ یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی نائب سربراہ ہانا جلول مورو سعودی عرب کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی نمائندہ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں اور قانون سازی اور بجٹ تجاویز اور دیگر اہم دوطرفہ امور پر رپورٹس تیار کرنے کی ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اہم بنیادی موضوعات میں سے ایک سعودی عرب کے لئے ویزا کی رعایت ہے جس کی میں ہمیشہ حمایت کرتی ہوں اور میرے خیال میں ہمیں ویزا رعایت کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ویزا رعایت کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس تزویری شراکت داری معاہدے کے فریم ورک میں ہیں جس میں کئی موضوعات شامل ہیں اس لیے ویزا کی رعایت ایک مرکزی کلیدی مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں اب تک ہم سعودی عرب کے بین الاقوامی کردار کو تسلیم کر چکے ہیں اور یہ نہ صرف سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور توانائی بلکہ ہر معاملے میں ایک ہمسایہ کے طور پر ہمارے لیے کتنا اہم ہے۔

ہمیں خاص طور پر جی سی سی اور سعودی عرب جیسے شراکت داروں سے زیادہ قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں سعودی عرب کو اپنا ایک بڑا اتحادی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریاض میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے یورپی۔سعودی کاروبار و سرمایہ کاری کے مکالمے پر توجہ مرکوز کرنے والے فورم کے ایک پینل میں حصہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی نائب وزیرِ خارجہ ولید الخیریجی سے ملاقات کی تاکہ سعودی عرب ۔یورپی یونین تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے۔ انہوں نے سعودی انسانی حقوق کمیشن کی خاتون سربراہ ہالہ التویجری سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ میں آپ کو،حکومت کو اور آپ کے ملک کو بہت اچھا کام کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

دسمبر 2025 کے وسط میں یورپی پارلیمنٹ نے یورپی یونین۔سعودی عرب تعلقات کو ایک مکمل تزویری و فوجی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل کی توثیق کی جسے یورپی یونین میں سعودی سفیر حیفہ الجدیہ نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ رپورٹ میں سعودی۔ای یو ویزا فری سفر کے امکان پر روشنی ڈالی گئی جو اس بات کی توثیق ہے کہ نئی ویزا حکمتِ عملی کے تحت مساوی سلوک کو یقینی بنانے کی غرض سے یورپی یونین پانچ جی سی سی ممالک کے ساتھ ایک محفوظ، باہمی طور پر فائدہ مند ویزا فری انتظامات میں پیش رفت کے لیے پرعزم ہے۔

رپورٹ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے سعودی سیاحوں کی اقتصادی اہمیت بالخصوص مہمان نوازی اور ثقافتی شعبوں کے حوالے سے روشنی ڈالی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ سعودی شہری غیر قانونی نقلِ مکانی کے دباؤ کا باعث نہیں بنتے۔