ریاض ۔24جنوری (اے پی پی):سعودی عرب میں پائیدار زرعی اور دیہی ترقی کے پروگرام نے، جسے ریف السعودیہ کہا جاتا ہے، ایک نئے منصوبے کا افتتاح کیا ہے جس کے تحت ماہی گیری میں استعمال ہونے والی چھوٹی کشتیوں میں بہتر اور اعلٰی حفاظتی آلات نصب کیے جائیں گے۔سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ان کشتیوں کو اعلٰی کارکردگی والے انجن اور سٹیلائیٹس کے ایسے نظام سے لیس …
سعودی عرب میں سمندر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، ماہی گیروں کو جدید آلات سے لیس کرنے کا منصوبہ متعارف

مزید خبریں
ریاض ۔24جنوری (اے پی پی):سعودی عرب میں پائیدار زرعی اور دیہی ترقی کے پروگرام نے، جسے ریف السعودیہ کہا جاتا ہے، ایک نئے منصوبے کا افتتاح کیا ہے جس کے تحت ماہی گیری میں استعمال ہونے والی چھوٹی کشتیوں میں بہتر اور اعلٰی حفاظتی آلات نصب کیے جائیں گے۔سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ان کشتیوں کو اعلٰی کارکردگی والے انجن اور سٹیلائیٹس کے ایسے نظام سے لیس کیا جائے گا کہ کسی بھی مشکل صورتِ حالات میں یہ کشتیاں فوری طور پر خطرے کا سگنل بھیج سکیں۔
یہ نئی تنصیب، کشتیوں کو سمندر میں حفاظتی معیار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔نیا انیشیٹیو، ریف السعودیہ کے پروگرام کے سٹریٹیجک اور تعمیری مقاصد کو تعاون فراہم کرے گا تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو، حفاظت کا انتظام بہتر اور معاشی نمو اور پائیداری سعودی وژن 2030 کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو جائیں۔
ریف السعودیہ کے ترجمان ماجد البریکان کا کہنا ہے کہ ’یہ نیا منصوبہ، چھوٹے درجے پر کام کرنے والے ماہی گیروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے انسانی اور میٹریل نقصان کو کم سے کم کرنے اور انھیں بااختیار بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
البریکان کے مطابق ’اس انیشیٹیو سے فشنگ کے شعبے میں لوگوں کی دلچسی میں اضافہ ہوگا اور یہ آمدن کا ایک پائیدار ذریعہ بنے گا۔ اس سے مچھلیوں کی سپلائی چین کو بھی سہارا ملے گا اور ان کی استعدادِ کار بہتر ہوگی۔ساتھ ہی تکنیکی تیاری اور حفاظتی معیار پر تعمیل کے ضوابط کو مضبوط اور روایتی فشنگ سرگرمیوں کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔







