سعودی عرب کی وزارتِ افرادی قوت نے مملکت میں ان غیرملکی کارکنوں کے لیے رعایتی مہلت میں مزید 6 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے، جن کے ورک پرمٹ ایکسپائر ہوئے 12 ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب میں غیرملکی کارکنوں کے لیے ایکسپائر ورک پرمٹ درست کرانے کی مہلت میں مزید 6 ماہ کی توسیع
ریاض۔1جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ افرادی قوت نے مملکت میں ان غیرملکی کارکنوں کے لیے رعایتی مہلت میں مزید 6 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے، جن کے ورک پرمٹ ایکسپائر ہوئے 12 ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اردو نیوز کے مطابق وزارتِ افرادی قوت نے گزشتہ روز بیان میں کہا ہے کہ وہ غیرملکی کارکن بھی اس مہلت سے مستفید ہوسکیں گے جن کے ورک پرمٹ 6 ماہ یا اس سےزیادہ مدت سے جاری ہی نہیں کیے گئے۔ وزارت نے واضح کیا کہ مہلت میں توسیع کا فیصلہ لیبر لاز کے ضوابط کو منظم کرنا اور آجر و اجیر کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وزارت نے کمپنی اور اداروں کے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ مہلت کے دوران اپنے کارکنوں کے ورک پرمٹ کی تجدید یا اجرا کرائیں تاکہ کسی قسم کی قانونی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ قانونِ محنت کے مطابق وہ غیرملکی کارکن جو مملکت میں نئے آتے ہیں، ان کی تجرباتی مدت 3 سے 6 ماہ ہوتی ہے۔ تجرباتی مدت کے ختم ہونے سے قبل ہی کارکنوں کے ورک پرمٹ اور اقاموں کا اجرا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی لیبر مارکیٹ میں ضوابط پر عملدرآمد کو بہتر بنانے کے لیے وزارت کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل قوی پلیٹ فارم نے اعلان کیا تھا کہ ایسے کارکن جن کے ورک پرمٹ کو ختم ہوئے تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے یکم جولائی سے انہیں خود کار نظام کے تحت آجروں کے ریکارڈ سے ہٹایا جائے گا۔









