ریاض۔26نومبر (اے پی پی):سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ سعودی عرب پائیدار ومحفوظ سرمایہ کاری کے شعبے میں دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم کرتے کامیاب ماڈل بن چکا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ریاض میں 28 ویں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے اہداف میں سرمایہ کاری کا فروغ …
سعودی عرب میں 1238 غیرملکی انویسٹرز کو پریمیئر اقامے جاری کئے جا چکے ہیں،خالد الفالح

مزید خبریں
ریاض۔26نومبر (اے پی پی):سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ سعودی عرب پائیدار ومحفوظ سرمایہ کاری کے شعبے میں دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم کرتے کامیاب ماڈل بن چکا ہے۔
اردو نیوز کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ریاض میں 28 ویں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے اہداف میں سرمایہ کاری کا فروغ انتہائی اہم ہے جس کا مقصد بیرونی سرمایہ کاروں کو مملکت میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کےلیے انہیں وسیع گراونڈ فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کئے جانے والے اقدامات کافی کامیاب رہے جس کے شاندار نتائج سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کے وژن 2030 کے اعلان کے بعد سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 3 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ 2016 کے بعد سے اب تک بیرونی سرمایہ کاروں میں بھی 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پریمیئر ریذیڈینسی حاصل کرنے والے غیرملکی سرمایہ کاروں کی تعداد 1238 ہو چکی ہے۔ ان سرمایہ کاروں کو وہی سہولیات حاصل ہیں جو انہیں ان کے اپنے ملک میں ہوتی ہیں یعنی جیسا کہ وہ اپنے ہی ملک میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت کے مختلف شعبوں میں اقتصادی ترقی کو پائیدار بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کو بہتر مراعات دی جارہی ہیں تاکہ وہ مطمئن ہو کر سرمایہ کاری کریں۔ پریمیئر اقامہ کے حوالے سے وزیر سرمایہ کاری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پریمیئر اقامہ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے جس کا مقصد سرمایہ کاری میں تنوع پیدا کرنا اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے حصول کو آسان بنانا ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاری کے حوالے سے عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں اس حوالے سے اہم نکات پیش کئے جائیں گے۔ سرمایہ کاری کو درپیش چیلنجز کے بارے میں کانفرنس میں مرکزی طورپر چار بنیادی امور زیر بحث ہوں گے۔ سرمایہ کاری کانفرنس میں متعدد ممالک کے وزرا اور 60 سے زیادہ عالمی سرکامیہ کار ایجنسیوں کے اعلی عہدیدار شرکت کررہے ہیں۔







