ریاض۔3نومبر (اے پی پی):برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات مضبوط اور تاریخی ہیں ۔ انہوں نے دورہ سعودی عرب کے دوران العربیہ سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ سعودی عرب میں 1,900 سے زیادہ برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے سعودی سٹاک مارکیٹ کا دورہ کیا اور ہم نے مالیاتی خدمات میں …
سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط اور تاریخی ہیں،برطانوی وزیر خارجہ

مزید خبریں
ریاض۔3نومبر (اے پی پی):برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات مضبوط اور تاریخی ہیں ۔ انہوں نے دورہ سعودی عرب کے دوران العربیہ سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ سعودی عرب میں 1,900 سے زیادہ برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے سعودی سٹاک مارکیٹ کا دورہ کیا اور ہم نے مالیاتی خدمات میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک سوڈان پر کوارٹیٹ کے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ علاقائی امن اور سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے اور اس بحران کے فوجی حل کو مسترد کرتے ہوئے کوارٹیٹ نے اسے بیکار قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک سوڈان میں فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لئے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ برطانیہ نے سوڈان میں شہریوں کی تکالیف کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لئے فنڈز مختص کرنے کی کوششوں کا اعلان کیا ہے۔ ایویٹ کوپر نے کہا کہ برطانیہ لبنانی حکومت اور لبنانی فوج کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ سوڈان میں شمالی دارفور کےعلاقے الفاشر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ ان کے ملک کو شہریوں کے خلاف ہونے والے خوفناک جرائم کے علاوہ شہر کے زچگی کے ہسپتال میں ہونے والی اموات کی دستاویزی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ علاقے میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی پیش قدمی کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار بچے فوری خطرے میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سوڈان میں جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اطلاعات پر فکر مند ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ سوڈانی بحران کے حل تک پہنچنے کے لیے کوارٹیٹ کی قیادت میں مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔
غزہ کی صورتحال کے حوالے سے برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی نازک ہے لیکن پھر بھی امریکی اقدام کی بدولت برقرار ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا ملک تخفیف اسلحہ کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتا ہے اور اس نے غزہ میں تخفیف اسلحہ کے طریقہ کار پر تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے غزہ میں مائننگ آپریشنز میں بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔








