سعودی فنڈنگ ختم ہونے کے باوجود معاہدے کی زنجیریں، جان راہم لیو گالف چھوڑنے سے قاصر

سعودی فنڈنگ ختم ہونے کے باوجود معاہدے کی زنجیریں، جان راہم لیو گالف چھوڑنے سے قاصر

سٹرلنگ۔6مئی (اے پی پی):دو مرتبہ کے میجر چیمپئن اور عالمی شہرت یافتہ گالفر جان راہم نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لیو گالف کے ساتھ اپنے طویل مدتی معاہدے میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں اور فی الوقت اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔

بی بی سی کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سیزن کے بعد اس متنازع لیگ کی مالی امداد بند کر دے گا۔ٹ

ٹرمپ نیشنل گالف کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 31 سالہ ہسپانوی کھلاڑی نے واضح کیا کہ ان کے معاہدے میں ابھی کئی سال باقی ہیں۔

جان راہم کا کہنا تھا، میرا خیال ہے کہ جب یہ معاہدہ تیار کیا گیا تھا تو انہوں نے بہت مہارت دکھائی تھی، اس لیے مجھے اس سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ فی الحال میری تمام تر توجہ کھیل اور آنے والے ٹورنامنٹس پر ہے، اس لیے میں ابھی اس بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہا۔

یاد رہے کہ جان راہم کو لیو گالف میں لانے کے لئے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کا خطیر معاہدہ کیا گیا تھا۔ تاہم اب لیگ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں کیونکہ سعودی فنڈنگ ختم ہونے کے بعد انتظامیہ نئے سرمایہ کاروں کی تلاش میں ہے۔

لیگ کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر سکاٹ او نیل نے بتایا ہے کہ وہ کاروباری ڈھانچے میں تبدیلیوں اور نجی سرمایہ کاروں سے رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ لیگ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔

ایک مثبت پیش رفت کے طور پر جان راہم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ڈی پی ورلڈ ٹور کے ساتھ اپنا پرانا جرمانہ اور تنازع طے کر لیا ہے۔

اس تصفیے کے بعد اب وہ آئندہ سال ہونے والے رائڈر کپ میں یورپی ٹیم کی نمائندگی کے لیے دوبارہ اہل ہو گئے ہیں، جس سے ان کے بین الاقوامی کیریئر پر چھائے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

دوسری جانب، لیو گالف کے سربراہ کا ماننا ہے کہ اگرچہ مالی حالات کٹھن ہیں، لیکن ٹیموں کی فروخت اور نئے کاروباری ماڈل سے اس لیگ کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انعامی رقوم میں کمی اور اخراجات میں کٹوتی کے بغیر اس مہنگے منصوبے کو جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔